Masael Quetta

بلوچستان میں پولیو کی صورتحال ،مستقبل کے معماروں کاتحفظ؟

0 253

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

بلوچستان میں پولیو کی صورتحال ،مستقبل کے معماروں کاتحفظ؟
تحریر؛۔ حانیہ بتول

پولیو تمام بیماریوں میں سب سے قدیم اور پرانی بیماری سمجھی جاتی ہے جوکہ کئی صدیوں سے لوگوں کو متاثر کرتی آرہی ہے۔ مصر کی آثار قدےمہ نے اہرام مصر میں نقش ونگاری کی ایسی تصاوےر تلاش کی ہیں جس میں متعدد افراد ا وربچے بھی شامل ہی جوصرف ایک ٹانگ اور لکڑی کے سارے کھڑے نظر آتے ہےںلہذا پولیو کو قدیم بیماریوں میں شمار کیا جاسکتاہے۔پولیو ایک ایسی خطرناک بیماری ہے جس نے کبھی دنیا بھر میں ایک سال میں دس لاکھ سے زائد بچوں کو اپنا شکار بنا کر عمر بھر کے لئے اپائج بنادیا تھا لیکن اب یہ بیماری خاتمے کے نزدیک پہنچ چکی ہے بین الاقوامی کوششوں سے پوری دنیا جلداس کے خاتمے کا ہدف حاصل کرلے گئی ۔سال1988ئمیں پولیوکے کیسز دنیا بھر میں بہت زیادہ منظر عام پر آئے جب اس بیماری سے30لاکھ لوگ 145ممالک متاثرہوئے جس کے بعد دنیا نے اس بیماری کے خاتمے کے لئے مشترکہ کوششیں شروع کی اور اس موذی مرض سے نجات کے لئے پولیو ویکسین ایجاد کی اور سن2000ءتک دنیا میں اس بیماری کے خاتمے کا ہدف مقررکیا۔پاکستان میں بھی پولیو کے خلاف انسداد ی مہم کا آغاز بھی سن1988 ءہوا جبکہ گھر گھر جاکر ٹیموں کے ذریعے حفاظتی قطرے پلانے کی خصوصی انسداد ی مہم 1994ءمیں شروع کی گئی جس کی وجہ سے پولےو سے متاثر مرےضوں جن کی تعداد شروع میں پچاس ہزارتک تھی وہ کم ہوتے ہوئے آج چند افراد تک محدودہو گئی ہے۔سن2011 ءتک پولیو صرف بھارت، پاکستان ،افغانستان اور نائیجریا تک محدود ہوگیا اور دنیابھر میں 198کےسز رپوٹ ہوئے جن میں سے 30فیصد کیس پاکستان سے ہیں۔ اور اسی سال ہمارے ہمسایہ ملک بھارت جوکہ ہم سے آٹھ گنا بڑا ہونے کے باوجود کو پولیو کی صورتحا ل کی مانیٹرنگ کرنے کے بعد عالمی ادارہ صحت نے اسے پولیو فری کنٹری کا سرٹیفکیٹ جاری کردیا ۔اس کے بعد سن2014ءمیں نائیجریا میں پولےو کا کوئی کیس سامنے نہیں آےا لیکن اگلے سالوں میں کیسز سامنے آنے سے تمام تر کوششیں ناکام ہوئی۔جبکہ افسوس ناک امرےہ ہے کہ پاکستان ابھی بھی پولیو فری کنڑی نہیں بنا۔ہمارے ملک میں پولیو کبھی بھی ختم نہیں ہوا جبکہ سن2005ءمیں ملک بھر میں پولیو کے صرف 28کیسز سامنے آئیں اس وقت ایک امید پیدا ہوئی تھی کہ پولیو کا خاتمہ جلد ہوگا۔لیکن مختلف وجوہات کی بناءپر ہر گزرتے دن کے ساتھ کیسز میں اضافہ ہوتا گےاجو کہ تشوےشناک ہے۔ سن 2012ءمےں دنےا بھر مےںپولیو 223بچوں تک محدود رہ گیاتھا۔ ہمارے ملک میں سن 2013ءمیں 59 کیسز، 2014ءمیں 306جبکہ 2015ءمیں 38 کیسز رپورٹ ہوئےں ۔2016ءمیں2کےسز جبکہ 2017ءمیں 8کیسز،2018ءمیں 12کیسز اور رواں سال اب 45کیسز رپورٹ ہوئے ہےں جوکہ تمام حکومتی اور بین الاقوامی ادارﺅں کے لئے لمہ فکریہ ہے۔ رواں سال سب سے زیادہ خیبر پختونخواہ میں 28کیسز رپورٹ ہوئے، قبائلی اضلاع میں 9،سندھ اور پنجاب میں3.3 جبکہ بلوچستان میں رواں ماہ 2 کیسز رپورٹ ہوئے جس مےں ضلع قلعہ عبداللہ میں نو ماہ جبکہ جعفرآباد میں آٹھ ماہ کے بچے میں پولیو کا وائرس پاےا گےایہاں یہ امر بطور خاص قابل ذکر ہے کہ پاکستان مےں اگر پولیو کیسز کی تعداد اس رفتار سے بڑھتی رہی تو کوئی بعید نہیں کہ پاکستان سے دیگر ممالک کو جانے والے لوگوںکی تعداد نہ صرف بہت کم کردی جائے گی بلکہ عین ممکن ہے کہ بیرون ملک جانے پر مکمل پابندی ہی عائد کردی جائے ۔صرف دو ممالک پاکستان اور افغانستان میں پولیو کی ایک فرد سے دوسرے فرد میں منتقلی جاری ہے۔پاکستان میں پولیو آج بھی ہمارے بچوں کو عمر بھر کے لئے معذور کرنے کا سبب بن رہا ہے۔

- Advertisement -

پولیو کیسز میں تقریباء95فیصد کیسز میں متاثرہ فرد میں کوئی علامت لاحق نہیں ہوتی ہے۔ جیسے غیر علاماتی کیسز کہتے ہیں جبکہ پولیو کی تین اقسام جن میں بے نیتجہ پولیو، عیر فالعجی پولیو اور فالجی پولیو شامل ہیں پہلی صورت میں پولیو ایک ہلکی بیماری ہوتی ہے جسی علامات بخار، تھکاوٹ ،سردرد، گلے کی سوزش، متلی اور ڈائریا شامل ہیں۔دوسری صورت میں بے نیتجہ پولیو کی علامتوں میں اضافی اعصابی کمزوری، روشنی کی بیش حساسیت، گردن میں جکڑن جیسے علامتیں ہوتی ہیں۔تیسری قسیم میں وائرل جیسی علامات کی شروعات کی مدت کے بعد خاض بور پر اضطراری افعال کے فقدان اورعضلات کے درد یا اینٹھن کے ساتھ ہوتی ہے۔اس کے بعد فالج لاحق ہوتا ہے جوکہ غیر علاماتی ہے اور لوگ پولیو کی زد میں آتے ہیں ایک سے دو فیصد سے کم لوگ فالج میں متبلا ہونے کے بعد صحت یات ہوجاتے ہیں تاہم کچھ مخصوص افراد فالج یا عضلات کی کمزوری سے عمر بھر معذور ہوجاتے ہیں۔ماہرین کے مطابق پولیو ایک اعصابی بیماری ہے جس میں پولیو وائرس حرام مغز پر حملہ کرکے پٹھوں کو حرکت دینے والے خلیوں کو تباہ کردیتے ہیں جس کی وجہ سے پٹھے استعمال نہ ہونے پرسوکھ جاتے ہیں متاثرہ حصہ ٹانگ یا بازو کمزور ہوجاتی ہے پولیو میں محسوس کرنے والی حس کبھی بھی ختم نہیں ہوتی کیونکہ اس بیماری کے وائرس محسوس کرنے والے خلیوں پر حملہ نہیں کرتے اور یہی فرق اسے دوسری اعصابی بیماریوں سے علیٰحدہ کرتا ہے۔
پولیو اس وقت تک پھیلتا رہے گا جب تک ہر جگہ سے اس کا مکمل خاتمہ نہیں ہوجاتا ۔یہی وجہ ہے کہ یہ انتہائی ضروری ہوچکا ہے کہ بچوں کو ہرجگہ قطرے پلائے جائیں تاکہ جب وائرس انکے علاقوں میں پھیلے تو وہ اس سے محفوظ رہیں ایک مرتبہ جب وائرس کسی علاقے میں اپنی جگہ بنا لیتا ہے تو یہ ان بچوں کو باآسانی متاثر کرسکتاہے جنھوں نے پولیو ویکسین کے قطرے نہیں پےئے ہوتے پاکستان میں انسداد پولیو مہم کےلئے بین الااقوامی اداروں ،ورلڈ ہیلتھ آرگنائزےشن اور یوینسف سے مدد لی جاتی ہے۔ حکومتی زرائع کے مطابق ملک بھر میں پولیو مہم پر ہونے والا 90فیصد خرچہ پاکستان خود برداشت کرتا ہے جبکہ انسانی و تکنےکی وسائل کے لئے بین الاقوامی ادارے مدد فراہم کرتے ہیں۔

قومی ایمرجنسی آپریشز سینٹر اسلام آباد سے جاری ہو نے والے رپورٹ کے مطابق لاہور، راولپنڈی ،پشاور، مردان ،بنوں، وزستان، کوئٹہ ،قلعہ عبداللہ ،کراچی ،حیدر آباد، قمبر اور سکھر کے نکاسی آب کے پانی کے نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے پورے ملک میں بنوں ڈویژن پولیو وائرس کے لئے خطرناک ترین تصور کیا جاتا ہے کیونکہ ہمارے ملک میں رپورٹ ہونےوالے کیسز میں پچاس فیصد کیسز بنوں ڈویژن سے پورٹ ہوتے ہیں۔موجودہ صورتحال میں وفاقی حکومت اور صوبائی حکومیتں ہر ماہ انسداد پولیو مہم چلاتی ہیں حالیہ مہم میں ایک کروڑ 25لاکھ سے زائد بچوں کو حفاظتی قطرے پلانے کا ہدف رکھا گیا تھا۔موجودہ صورتحال اورحالیہ کیسوں میں اضافہ سے پاکستان پولیو کے حوالے سے خطرناک ترین ملک تصور کیا جارہا ہے ملک کے بڑے شہروں میں پولیو وائرس کی موجودگی سے بچوں کو خطرات لاحق ہیں۔دوسری جانب بعض علاقوں میں امن وامان، منفی پروپیگیڈ اور ہمسایہ ملک سے باآسانی لوگوں کی آمدورفت بھی پولیو پھیلانے کی بنیادی وجوہات ہیں۔افسوسناک امرہے کہ افغانستان جیسے خانہ جنگی کے شکار ملک میں جہاں بنیادی سہولیات میسر نہیں وہاں بھی پولیو وائرس کی موجود صورتحال ہمارے ملک سے بہتر ہے۔لہذا پولیو کے مکمل خاتمے کے لئے لوگوں ذہنوں میں پولےو کے قطروں کے حوالے سے پائے جانے والے بے جا خدشات کو دور کرنے کےلئے تمام عالم اسلام کے جید علماءکرام، مدارس اور دینی تنظیموں کی جاب سے حمایت میں فتوئے جاری کئے ہیں جس میں پولیو کے قطروں میں مضر صحت اجزاءشامل ہونےکی تردےد ،قطرے پلانے کو جائز قرار د ےنے اوراسکی مذہبی ممانعت جیسے مسائل پر فتوئے موجود ہیں۔دنیا بھر میں 54اسلامی ممالک نے انہی پولےوکے قطروں سے اپنے ممالک میں اس بیماری کے خاتمے کو ےقےنی بناےا۔ حالیہ دنوں میں خیبر پختوانخواہ میں پولیو مہم کے دوران ایک پروپےگنڈہ ررچاکر افواہ پھیلائی گئی اور سینکڑوں بچوں کو ہسپتال میںلاےاگیا جبکہ تحقیقات کرنے پر معلوم ہوا کہ بچوں میں پولیو کے قطروں سے کوئی انفکیشن نہیں ہوا جس کے بعد متعلقہ شخص کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے گرفتاری عمل میں لائی گئی اس طرح کے پروپیگنڈوں اور افواہوںاور غلط اندازوں کی وجہ سے آج ہمارے لاکھوں بچوں کی زندگےاںخطرے میں ہیں۔ملک میں بڑھتے ہوئے پولیو کیسز سے یہ بات عیاں ہوجاتی ہے کہ پولیو کے خاتمے کے لئے ہماری کوششیں ناکافی ہےں اس سلسلے میں تمام اسٹےک ہولڈر ز،اساتذہ ،علماءکرام اور خصوصاََ والدین کو اس مرض کے خاتمے کے لئے منصوبہ بندی میں شامل کرکے انہیں اپنی ذمہ داریوں کا احسال دلانا ہی مقصود ہے عوام کی طرف سے اپنے بچوں کو پویو کے قطرے پلانے پر ہچکچاہٹ کا مظاہر ہ کیا جاتا ہے کےونکہ بعض شاطر حلقے ایک منصوبے کے تحت پولیو ویکسین کے بارے میں عوام میں شکوک وشہبات پیدا کرتے ہیں جنھیں حکام کی طرف سے دانشمندی کے ساتھ دور کرنے کی کوشش نہیں کی گئی تو پولیو کے خاتمے کا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا۔لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پولیو کے انسداد کے لئے بھر پور کوششیں کرے اور ملک سے اس بیماری کا مکمل خاتمہ عمل میں آسکے۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.