Masael Quetta

بلوچستان ثانوی تعلیم میں اصلاحات ۔ایک جائزہ

7 419

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

بلوچستان ثانوی تعلیم میں اصلاحات ۔ایک جائزہ
تحریر: اقبال بلوچ

تعلیم کے بغیر کوئی بھی ملک ،قوم اور معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا ہے جدید اورترقی کے اس تیز رفتار دور میں جن قوموں نے تعلیم کو اپنی ترجیح بنایا وہ آج ترقی کے منا زل بڑی تیز ی سے طے کررہی ہے۔ کیونکہ دُنیا جان گئی ہے کہ تعلیم کے بغیر ترقی ممکن نہیں اس لئے تعلیم کو ترجیح دیتے ہوئے اقوام نے اپنی معیثت انفراد اسٹر کچری آئی ٹی طب سمیت دیگر شعبہ جات میں عصرحاضر کے تقاضو ں کے مطابق تبدیلیاں کیں ہیں اس طرح اپنی قوم کو دنیا کے طا قتور او ر ترقی یافتہ اقوام کی صفوں میں لا کھڑا کیا ہے ۔ بلوچستان جہاں دیگر شعبوں میں ذبوں حالی کا شکار ہے وہی تعلیم کے شعبے پر توجہ مرکوز نہ ہونے کی وجہ سے صوبے میں معاشی ترقی کی رفتار اور پائیدار ترقی متاثر ہوئی ہے۔ لیکن موجودہ صوبائی حکومت نے اقتدار میں آتے ہوئے تعلیم کو اپنی ترجیحات میں شامل کرکے اس میں موجودہ اور جدیددورکے تصاضوں کے مطابق ضروری اصلااحات اور تبدیلیاں لانا ضروری سمجھی۔ اس سلسلے میں محکمہ ثانوی تعلیم نے اساتذہ گریڈ 09 تا 15 اسکیل کے اساتذہ کی بھرتی کو ادارے کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے ، سیاسی دباوَ سے پاک اور شفاف مقابلے کے ماحول کو برقرار رکھنے کے لیئے ایک جامع حکمت عملی طے کی ہے جسے ریوائزڈ ریکروٹمنٹ پالیسی – 2019 کے نام سے صوبائی کابینہ نے منظور کرایا گیا،اس سے پہلے محکمہ تعلیم کے سروس رولز 1984 میں بنائے گئے تھے اور تمام مراحل کے بعد محکمہ ثانوی تعلیم میں 33 سال بعد سروس رولز بنائے گئے ہیں۔

- Advertisement -

جن میں بعض خامیوں کی وجہ سے غیر تدریسی عملے کی دوران ملازمت و پرموشن وغیرہ کیلئے واضح قواعد و ضوابط موجود نہیں تھے جس کا نقصان برائے راست ملازمین کو ہوتا تھا۔موجودہ اقدام سے برسوں سے پروموشن اور ترقی کے منتظر ملازمین نہ صرف ترقی کر پائیں گے بلکہ ان کے موجودہ آسامیوں پر دوسرے ملازمین کی تعیناتی بھی ممکن ہو سکے گی مزید برآں اس سے سینئر ملازمین کو اگلے گریڈ میں جانے کا موقع ملے گا اور یہ نمایاں پوزیشن پر کام بھی کر سکیں گے نیز ان کے تجربات سے بھی احسن انداز میں استفادہ کیا جاسکے گا۔ نظامِ تعلیم میں امتحان کلیدی کردار کا حامل عنصر ہے، جو کہ طلباءو طالبات کے مستقبل کی راہیں متعین کرتی ہیں اور مجموعی طور پر پورے نظام کی عکاس ہوتی ہے۔ 1977 میں ایک آرڈیننس کے ذریعے ثانوی و اعلیٰ ثانوی سطح پر معیاری امتحان لینے کی غرض سے ایک ادارہ بلوچستان بورڈ آف انٹر میڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کوئٹہ کا قیام عمل میں لایا گیا تھا جو کہ آج تک اپنا کردار بخوبی انجام دیتی رہی ہے۔ اب چونکہ 42 سال کا طویل عرصہ گزر چکا، عصری تقاضے تبدیل ہوئے، اور بلوچستان کے وسیع و عریض رقبے، دور دراز علاقوں کے عوام کی بروقت رسائی کے پیشِ نظر نہ صرف بورڈز کی تعداد میں اضافہ نا گزیر ہوچکا ہے بلکہ امتحانی نظام میں اصلاحات بھی ضروری قرار پائی ہیں۔ محکمہ ثانوی تعلیم نے ان تمام ضروریات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ایک مسودہ قانون صوبائی کابینہ کی منظوری سے بلوچستاں صوبائی اسمبلی میں پیش کی، جسے ضروری بحث و تمحیص کے بعد منظور کر لیا گیا ہے۔ مجوزہ مسودہ قانون کی منظوری کے بعد امتحانی عمل مزید سہل ہو جائے گا اور طلباءو طالبات کو اس دوران پیش آنے والی دشواریوں پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ بلوچستان بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے لئے سروس رولز ترتیب دی گئی ہے یہ سروس رولز 1992 کے بعد بنائے گئے ہیں مذکورہ سروس رولز کا براہ راست فائدہ بورڈ کے ملازمین کو ہوگا گزشتہ سروس رولز میں پروموشن کے قاعدے یا تو مبہم تھے یا پھر موجود نہیں تھے جس کا نقصان یہ ہوتا تھا کہ من پسند افراد سفارش اور دیگر غیرقانونی ذرائع سوال کر کے علم پر تعینات کیے جاتے تھے جو نہ صرف اپنی من مانی کرتے بلکہ ان کو ہٹانا مشکل ہو جاتا تھا جس عمل کی وجہ سے صحت مند مقابلے کے رجحان کی حوصلہ شکنی ہوتی گئی اور بعض منفی عوامل پروان چڑھتے گئے۔ جس سے تعلیمی ماحول سمیت بلوچستان بورڈ کی کارکردگی کافی حد تک متاثر ہوئی موجودہ سروس رولز کے آنے سے حقدار اور سینئر عہدیداروں کو اعلیٰ عہدوں پر ترقی ممکن ہوسکے گی اور سفارش کلچر کے خاتمہ میں کافی مدد ملے گی۔ محکمہ ثانوی تعلیم حکومت بلوچستان نے ریکروٹمنٹ پالیسی 2019 بنائی ہے۔ جس کی رو سے تدریسی عملے کی خالی آسامیوں کو مشتہر کیا گیا ہے جو اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہے محکمے نے یہ آسامیاں کیریئر ٹیسٹنگ سروس پاکستان کے ذریعے پر کرنے کا فیصلہ کیا ہے جسکا انتخاب 6 دیگر ٹیسٹنگ سروس سے مقابلے اور بڈنگ کے بعد عمل میں آئی۔ سی ٹی ایس پی نے امتحانی فارم اور امتحانی فیس نے این ٹی ایس کے مقابلے میں 1000 روپے کی بجائے 246 روپے فیس رکھی گئی ہے جو غریب اور محنتی امیدواروں کے لیے کسی تحفے سے کم نہیں۔صاف و شفاف اور میرٹ کی بنیاد پر بھرتیوں کے عمل کو یقینی بنانے کیلئے سی ٹی ایس پی کو ہدایات جاری کردی گئی ہیں مندرجہ بالا اسامیوں کو پر کرنے کے بعدغیر فعال اسکول دوبارہ فعال ہو جائیں گے نیز اسکولوں میں اساتذہ کی کمی بھی پوری ہوجائے گی بلوچستان کی جغرافیائی وسعت، روز افزوں بڑھتی ہوئی آبادی اور نئے تعلیمی سہولیات کے مراکز میں اساتذہ کی کمی پر قابو پانے اور صحت مند مقابلوں کے رجحان کی پذیرائی کے لیئے نظامِ تعلیم میں جہاں تدریسی عملے کا کلیدی کردار ہوتا ہے وہیں مددگار غیر تدریسی عملے کا کردار بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ درس و تدریس کے عمل میں مدد گار عملے ہی کی بدولت اساتذہ کرام ذہنی سکون اور تندہی سے اپنے فرائض انجام دے سکتے ہیں اور بچوں کو بھی سہولت مہیا ہوتی ہے۔ اس وقت محکمہ ثانوی تعلیم نے صوبہ بھر میں غیر تدریسی عملے کی خالی آسامیوں پر بھرتی کا فیصلہ کیا۔ ان تمام بھرتیوں پر عمل جاری ہے۔ علاوہ ازیں گریڈ 5 سے گریڈ 15 کے غیر تدریسی عملے کی خالی آسامیوں پر محکمہ کمیٹیوں کے ذریعے بھرتی کا عمل بہت جلد شروع ہوچکا ہے ۔اس کے علاوہ گریڈ ایک سے گریڈ 5 کے غیر تدریسی عملے کی خالی آسامیوں پر بھرتیاںآخر ی مراحل میں ہے۔ جبکہ بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے ذریعے ایس ایس ٹی جنرل،سائنس اور ایس ایس ٹی ٹیک کی خالی آسامیوں پر بھرتی عمل میں لائی جارہی ہے جس سے اسکولوں میں سائنس دیگر مضامین کے لیے اساتذہ دستیاب ہوگی ۔

اساتذہ کرام ہی کی وجہ سے درس و تدریس کے شعبے کو معاشرے میں انتہائی باوقار حیثیت حاصل ہے – اور استاد کا یہ رتبہ تب ہی قائم رہ سکتا ہے جب وہ اپنے فرائضِ منصبی احسن طریقے سے سر انجام دے۔ ہم سب کی ذمہ داری بنتی ہے کہ فرائضِ منصبی سے روگردانی کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کریں۔ محکمہ ثانوی تعلیم نے تاریخ میں پہلی مرتبہ غیر حاضر تدریسی عملے کے خلاف م¶ثر کریک ڈا¶ن شروع کیا ہے جس سے اب تک 3000 کے قریب غیر حاضر اساتذہ کے خلاف محکمانہ کاروائی عمل میں لائی جارہی ہے اس کے علاوہ 100 کے قریب غیر حاضر اساتذہ کو نوکری سے برخاست کیا گیا ہے جبکہ غیر حاضری کی مد میں تنخواہوں سے تقریباً 163 ملین روپے کٹوتی کرکے سرکاری خزانے میں جمع کردی گئی ہے۔ صوبائی کابینہ کی منظوری سے بلوچستان پرائمری ایجوکیشن سپورٹ پروگرام شروع کیا گیاہے۔ اس پر وگرام کے تحت اب تک 1800 غیر فعال پرائمری اسکولز کو فعال بنا کر ان میں درس و تدریس کا عمل شروع کیا گیا ہے۔ 5296 ایسے پرائمری اسکولز کی نشاندہی ہوئی جن میں محض ایک ہی استاد متعین ہے۔ بلوچستان پرائمری ایجوکیشن سپورٹ پروگرام کے ذریعے ان تمام اسکولز میں بقدرِ ضرورت اساتذہ کی تعیناتی کو یقینی بنایا جا رہا ہے تاکہ ہر بچے کو اسکول اور معیاری تعلیم تک رسائی حاصل ہو۔ اسکولز کی کمی پر قابو پانے کے لیئے بلوچستان بھر کے پرائمری اسکولز کو غیر صنفی قرار دیا گیا جسکی بدولت بچے اور بچیاں یکساں طور پر ایک ہی اسکول سے مستفید ہو ں گے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان کے عوامی ترقیاتی پروگرام کے تحت بتدریج بہتری کے پیشِ نظر صوبہ بھر کے اسکولز کو عمارتی ضروریات کی فراہمی کا منصوبہ شروع کیا گیا ہے جسکے تحت 159 ملین روپے کی لاگت سے 200 پرائمری سکولز کو بنیادی عمارت فراہم کی جائیگی جبکہ پینے کے صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے اور بیت الخلا جیسی بنیادی ضروریات کی دستیابی کے لیئے 1.3 ملین روپے مختص کی گئی ہے سی تسلسل میں خطیر رقم کی لاگت سے66 ہائی اسکولز کو ماڈل ہائی اسکولز اور257 مڈل اسکولز کو ماڈل مڈل اسکولز کا درجہ دیا جا رہا ہے جس سے بنیادی ضروریات کے ڈھانچے میں خاطر خواہ بہتری آئے گی۔ بلوچستان ایجوکیشن فاونڈیشن، تعلیمی میدان میں کام کرنے والے نجی / غیر سرکاری اداروں کو تربیتی، مشاورتی اور بنیادی ڈھانچے کے حوالے سے سہولیات کی فراہمی کا ایک اہم ادارہ ہے۔ اب تک یہ ادارہ گورنر کے انتظامی کنٹرول میں فعال ہے۔ چونکہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد تعلیم کا شعبہ صوبائی دائرہ اختیار میں آتا ہے تو آئینی ضرورت تھی کہ اس ادارے کو صوبائی حکومت کے انتظامی دائرہ کار میں لایا جائے، اس کے لیئے ادارے کے مسودہ قانون بلوچستان ایجوکیشن فاونڈیشن ترمیمی بل- 2019 ءصوبائی کابینہ کی منظوری سے بلوچستان صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جا چکا ہے۔ اس بل کی منظوری کے بعد تعلیمی میدان میں کام کرنے والے اداروں کی سہولیات میں ہم آہنگی لانے میں آسانی پیدا ہو گی۔ نظام تعلیم میں نجی تعلیمی اداروں کا اہم کردار ہے جس سے انکار ممکن نہیں۔ گزشتہ دہائی میں بلوچستان میں نجی تعلیمی اداروں کا رجحان فروغ پایا اور ان کی تعداد میں روز افزوں اضافہ ہوتا رہا۔ ان اداروں کو مزید مفید بنانے اور ان کی مثبت ترویج کے لیئے موزوں ضابطے کی ضرورت کے پیشِ نظر ایک جامع مسودہ قانون نجی تعلیمی اداروں کے ضابطے اور ترویج کابل 2019ءصوبائی کابینہ کی منظوری سے بلوچستان صوبائی اسمبلی میں بغرضِ منظوری پیش کیا چکا ہے، جسکی منظوری کے بعد صوبہ بھر میں فعال نجی تعلیمی اداروں کا کردار ایک طے شدہ قانونی دائرہ کار میں رہے گا۔ باضابطہ تعلیمی نظام، طلباءسے وصول کی جانے والی فیس اور سہولیات کی فراہمی میں تناسب، تعلیمی اداروں میں بنیادی ضروریات کی یقینی دستیابی اور یکساں نصاب و امتحان جیسے بنیادی نکات کی بدولت نظامِ تعلیم پر اس قانون کے دور رس مثبت اثرات مرتب ہونگے۔ محکمہ تعلیم میں انتظامی معاملات میں بہتری کے لئے اساتذہ کرام کی سہولت کی پیشِ نظر تمام ضلعی تعلیمی افسران کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ ریٹائرمنٹ اور پنشن کے کیسز کو فوری طور پر حل کیا جائے اور پس و پیش کرنے والے افسران کے خلاف تادیبی کاروائی کے احکامات بھی جاری کیئے گئے۔محکمہ ثانوی تعلیم کے زیرِ انتظام تمام اسکولز میں موجود ناکارہ اشیاءکی فوری نیلامی کی گئی جس کے ذریعے حاصل ہونے والی رقم کو اسکولز کی بہتری کے لیئے استعمال کیا جارہاہے ۔ محکمہ کے انتظامی دفاتر اور اسکولز میں موجود ناکارہ گاڑیوں کی فہرستیں تیار کی جا چکی ہیں جنھیں مجاز حکام کی منظوری کے بعد باقاعدہ نیلامی کے لیئے پیش کیا جائے گا اور اس نیلامی سے حاصل ہونے والی رقم بھی اسکولز کی بہتری کے لیئے استعمال کی جائے گی۔ ضلعی سطح پر تعلیم کے شعبے کو در پیش مسائل کے فوری اور موثر حل کے لیئے ہر ڈی-ای-او کی سربراہی میں قائم ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی اور ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں قائم ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ نامی فورمز کو فعال بنا یا گیا ہے۔ اس سلسلے میں متعلقہ حکام کو اہدایات جاری کیں گئیںہیں کہ مذکورہ فورمز کے مہینے میں کم از کم دو اجلاس بلائے جائیں۔عرصہ دراز سے زیرِ التوا، اساتذہ کرام کی ترقی کے معاملات کو دیکھنے اور حل کرنے کے لیئے فوری اقدامات اٹھائے گئے۔ گریڈ 17 سے اوپر کے تقریبا 621 اساتذہ کے ترقی کے کیسز ایس اینڈ جی اے ڈی کو بھجوا دیے گئے ہیں جن میں 43اساتذہ کی ترقی ہوچکی ہے جبکہ دیگر پر کام جاری ہے۔اُمید ہے کہ صوبے میں تعلیمی ترقی کا سفر یوں ہی جاری رہاہو گا۔میرٹ اور شفافیت کے دیرینہ مطا لبوں کو تقویت ملے گی۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.