Masael Quetta

بلوچستان میں حفاظتی ٹیکہ جات کا پروگرام ، مسائل اور وسائل

0 224

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

بلوچستان میں حفاظتی ٹیکہ جات کا پروگرام ، مسائل اور وسائل
تحریر۔ حانیہ بتول

- Advertisement -

صحت قدرت کی عطا کردہ نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے انسان جیسے جیسے ترقی کی منازل طے کرتا گیا اسی طرح اس نے روزمرہ کے مسائل پر قابو پانے اور اپنے لئے آسانی پیدا کرنے کی کئی راہیں متعین کیں۔ قدرت کی دیگر نعمتوں میں اولادیا بچے ایک ایسی نعمت ہے جن کی خوشی اور صحت وتندرستی کےلئے ہر ذی شعور انسان ساری عمر لگا دیتا ہے بچوں میں پائی جانے والی بہت سی بیماریاں آج سے کئی دہائیوں پہلے تک کافی پراسرار سمجھی جاتی تھیں اوران بیماریوں میں درج ذیل بیماریاں سرفہرست ہیں۔
تپدق حفاظتی ٹیکوں کا شیڈول
پولیو بچے کی عمر۔۔۔۔حفاظتی ٹیکے
خناق بوقت پیدائش ۔۔۔۔پہلا ٹیکہ ( تپ دق)+پولیو کے قطرے
کالی کھانسی 6ہفتے۔۔۔۔دوسرا ٹیکہ ( خناق، کالی کھانسی ، تشنج ) + پولیو کے قطرے
تشنج 10ہفتے۔۔۔تیسرا ٹیکہ ( خناق ، کالی کھانسی ، تشنج ) + پولیو کے قطرے
خسرہ 14 ہفتے ۔۔۔ چوتھا ٹیکہ ( خناق ، کالی کھانسی ، تشنج ) + پولیو کے قطرے
09 ماہ۔۔۔۔۔پانچواں ٹیکہ ( خسرہ )
برسوں کی تحقیق اور محنت کے بعد ایسی ادویات( ویکسین )تیار کرنے میں کامیابی ہوئی جن کے ذریعے ان تمام بیماریوں سے بچوں کا تحفظ ممکن ہوسکے ادویات کو بعد ازاں حفاظتی ٹیکہ جات کا نام دیا گیا جن کا باقاعدہ اطلاق 1978 سے شروع ہوا۔عالمی ادارہ برائے صحت نے ان تمام ادویات کے استعمال کے عالمی سطح پر ایک شعر جاری کیا جس پر آج بھی پوری دنیا میں عملدرآمد کیا جاتا ہے بہتر حکمت عملی اور عملی اقدامات کے ذریعے دنیا کے بیشتر ممالک آج ان تمام تر بیماریوں سے چھٹکارا حاصل کر چکے ہیں کچھ ترقی یافتہ ممالک جن میں افغانستان اور پاکستان شامل ہیں ابھی تک ان امراض سے چھٹکارا پانے کے لئے مصروف عمل ہےں۔پاکستان میں بھی اس پروگرام کا اطلاق 978 1میں ہی شروع ہوا پاکستان میں دیگر صوبوں کے مقابلے میں بلوچستان کی کارکردگی واضح طور پر کمزور نظر آتی ہے جس کی بنیادی وجوہات میں کم شرح خواندگی بنیادی انفراسٹرکچر کی کمی اور خستہ حالی اور تعلیم یافتہ افرادی قوت کی کمی سر فہرست ہیں گزشتہ ادوار میں پروگرام کی ترقی و ترویج کےلئے خاطر خواہ اقدامات کیے گئے مگر پھر سال 2019 میں بلوچستان میں ویکسین شدہ بچوں کی شرح 16 فیصد تھی جو کہ دیگر صوبوں کی نسبت انتہائی کم ہے۔اس حوالے سے صوبائی کوآرڈینیٹر بلوچستان ای پی آئی پروگرام ڈاکٹر شاکر بلوچ کا کہنا ہے کہ حفاظتی ٹیکے مکمل طور پر محفوظ ہے اور ان سے بچوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا کسی بھی مہم یا بیماری کے خلاف کامیابی کا دارومدار عوام کے تعاون سے مشروط ہے جب تک عوام میں اس پروگرام کی پذیرائی نہیں ہوگی ہم مطلوبہ نتائج کے حصول میں ایسے ہی ناکام رہیں گے جلدیہ دنیا ان تمام بیماریوں سے چھٹکارا پا چکی ہے مگر ہم ابھی تک بہت پیچھے ہیںجس کی سب سے بڑی وجہ عوامی تعاون کا نہ ہونا ہے متعدی بیماریوں کے ٹیکوں کا مکمل کورس ہر بچے کا بنیادی حق ہے جو اسے دینا ریاست کے ساتھ ساتھ اس کے والدین کابھی اولین فرض بنتا ہے۔
بلوچستان میں اس پروگرام کے لیے حکومتی سطح پر بہت سے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں جن میں بین الاقوامی اداروں کی مدد بھی شامل ہیں اس کے باوجود خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آرہے ہیں اس سلسلے میں ان کا کہناتھا کہ ریاست بین الاقوامی اداروں کی مدد سے پروگرام کی افادیت کو بڑھانے کیلئے کوشاں ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تمام تر گورنمنٹ کی سطح پر جو مسائل ہیں ان کے حل کے لئے بھی اقدامات کیئے جارہے ہیں۔ مگر پھر بہت سے ایسے مسائل موجود ہیں جن کے تدارک کے لئے اقدامات لینے کی اشد ضرورت ہے۔ کمیونٹی میں خواندگی کی شرح بہت کم ہے جس کی وجہ سے اس پروگرام کے حوالے سے کمیونٹی میں شعور و آگہی نہیںہے۔اس لیئے کمیونٹی اب تک اس پروگرام کی افادیت سے اس طرح واقف نہیں ہے۔ اس کے علاوہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے بہت بڑا ہے اور اس کی آبادی چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم ہے۔ اس لئے ان تمام آبادی تک پروگرام کی رسائی یقینی بنانا ایک بہت بڑا چیلنج ہے اس کے علاوہ بلوچستان میں تربیتی یافتہ افراد ی قوت بھی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے ۔ اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ آج بھی بلوچستان کی 60 فیصد آبادی صحت کی بنیادی سہولیات سے محروم ہے عرصہ دراز سے بلوچستان میں بنیادی انفرا اسٹرکچر کی زبوں حالی بنیادی مسائل میں سے ایک ہے۔ ای پی آئی پروگرام کی اگر بات کریں تو کولڈ چین مینجمنٹ ہمیشہ سے ایک چیلنج رہا ہے جس میں بنیادی انفرا اسٹرکچر کا نا ہونا بنیادی کردارادا کرتا ہے ان تمام مسائل کے حل کے لئے حکومتی سطح پر خاطر خواہ اقدامات کیئے جارہے ہیں جن میں سٹیٹک سینٹرز کی فعالیت سر فہرست ہے جن سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ای پی آئی سے متعلق معلومات اور خدمات کا حصول یقینی بنا یا جائے گا۔ اسکے علاوہ اس پروگرام کو مد نظر رکھتے ہوئے مفصل اور قابل عمل ذرائع ابلاغ کے حکمت عملی کی ضرورت ہے جس پر کام جاری ہے ۔ جس میں پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا اور دیگر ذرائع کے ذریعے لوگوں میں زیادہ سے زیادہ شعور و آگاہی پھیلائی جائے گی ۔ اس حکمت عملی کے ذریعے کمیونٹی میں پروگرام کی افادیت کے حوالے سے مختلف پہلووں کو مد نظر رکھا جائے گا۔ اس کے علاوہ اسی حکمت عملی کے تحت صوبائی اور ملکی سطح پر ایڈووکیسی پروگرامز بھی مرتب کیئے جائیں گے۔ بلوچستان کی آبادی کے پہلووں کو مد نظر رکھتے ہوئے زیادہ سے زیادہ آ¶ٹ ریچ خدمات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ مطلوبہ 90 فیصد کی کوریج کا حصول ممکن ہو ۔ اس پروگرام کے ذریعے نجی ہسپتالوں کے ساتھ شراکت داری کرتے ہوئے پروگرام کو مزید فعال کیا جاسکتا ہے ہر نجی ہسپتال کو پابند کرنے کی اشد ضرورت ہے کہ وہ اپنے اپنے ہسپتالوں میں سٹیٹک سینٹرز کا قیام عمل میں لائیں اور ان کی فعالیت میں حکومت کا بھر پور ساتھ دیں۔ پولیو اور ای پروگرام میں ہم آہنگی کی اشد ضرورت ہے کیونکہ ای پی آئی پروگرام کو مضبوط کیئے بنا پولیو کا خاتمہ ناممکن ہے۔
قائد اعظم نے بہت پہلے کہاتھا کہ ایمان ، اتحاد ، تنظیم کے اصولوں پر کار بند ہوکر کسی بھی شعبے میں کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے ۔ صحت عامہ کے مسائل کے حل میں عوامی شمولیت کیسا کردار ادا کرسکتی ہے ۔ تجربات کی رو سے یہ پتہ چلا ہے کہ عوامی شمولیت کے ذریعے کسی بھی پروگرام کے اخذ کردہ نتائج کو حاصل کرنا بہت آسان ہوجاتا ہے۔ صحت عامہ کے تمام تر پروگرامز میں عوامی شمولیت ایک انتہائی اہم حیثیت کی حامل رہی ہے ۔ جن میں بچوں کے حفاظتی ٹیکوں کا پروگرام سر فہرست ہے۔
مختلف قسم کی سر گرمیوں کے باوجود ابھی تک اہم ضرورت یہ ہے کہ عوامی سطح پر شعور و آگاہی کے پروگرامز مرتب کئے جائیں تاکہ لوگوں میں عوام کے لئے بنا ئے گئے پروگرام کی زیادہ سے زیادہ سمجھ آسکے۔ اور یہ شعور و آگاہی محض سیمیناروں میں شرکت سے نہیں آسکتی۔ اسکے لئے جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے ۔ کیونکہ علم تقریباً 100فیصد لوگوں کے پاس ہوتا ہے مگر وہ اس پر عمل محض 10یا 20 فیصد ہی کرتے ہیں۔ علم کو عمل میں تبدیل کرنے کےلئے کسی بھی انسان کے رویہ اور عمل کا حصہ بنانا پڑتا ہے۔ جس کے لئے انگریز میں (Behavior Change Communication) کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ دنیابھر میں کام کرنے والے صحت کے نظام کو ( Preventive Health Care)کہا جاتاہے جس کا مقصد کسی بھی مرض کو روکنے سے پہلے اس کا تدارک کرنا ہے۔ جب کہ پاکستان میں آج بھی بیماری کے بعد علاج کا نظام رائج ہے ۔ جسے ( Curative Health System) کہا جاتا ہے ۔ اس نظام کو چلانے کے بہت سارے وسائل اور کوششیں صرف ہوتی ہیں جو پاکستان جیسے معاشی غیر مستحکم ملک کے لئے انتہائی نا مناسب ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ لوگوں کے رویے پر کام کیاجائے اور ان کو تبدیل کرنے کی سعی کی جا ئے جس کے لئے علم و آگہی ، عمل اور ایڈ ووکیسی کی اشد ضرورت ہے۔بالکل اسی طرح حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام کو فعال بنانے کے لئے کمیونٹی کی شمولیت کو بہتر بنانے کی اشد ضرورت ہے ۔ جس کے لئے تمام تر ادا روں کو صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر جامع منصوبہ بندی کرنی پڑے گی۔ اسکے ساتھ ایسے پروگرام مرتب کرنے کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں کے رویوں کوتبدیل کیا جاسکے۔ رویے تبدیل ہوںگے تو لوگوں میں پروگرام کی مقبولیت ہوگی۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.