Masael Quetta

انسانیت کی خدمت میرا نصب العین ہے ، فوزیہ شہزاد

3 1,034

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

حکومت سماجی اور فلاحی اداروں کی سرپرستی کرے ،سماجی کارکن و تعلیمی فکر مند کی ” مسائل نیوز “ سے خصوصی بات چیت

- Advertisement -

بلاشبہ انسانیت کی بے لوث خدمت عظیم عبادت ہے اور یہ عبادت اللہ تعالی کے نزدیک بہترین اور پسندیدہ عمل ہے کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ میں انسانوں کے دلوں میں رہتا ہوں اور جس نے کسی ایک انسان کی خدمت کی گویا اس نے پوری انسانیت کی خدمت کی اور یہ عظیم عبادت یا عمل خوش نصیبوں اور اللہ تعالی کے نیک بندوں کے حصہ میں آتی ہے انسانی تاریخ ہمیشہ ایسی ہستیوں اور شخصیت کو یاد رکھتی ہے جو اپنے آپ کو انسانیت کےلئے وقف کرتے ہیں ایسے لوگ تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں جن کا اوڑھنا بچھونا اور مقصد صرف اور صرف انسانیت کی بے لوث خدمت ہوتی ہے بلاشبہ یہ عظیم عبادت اللہ تعالی کے نیک بندوں کو نصیب ہوتی ہے۔
سرزمین بلوچستان نے ایسے سپوتوں کو جنم دیا ہے جنہوں نے انسانیت کی بے غرض خدمت کیلئے خود کو نہ صرف وقف کیا ہے بلکہ اس کیلئے بیش بہا قربانی بھی دی ہے اس طرح کی عظیم انسانوں کی فہرست میں ایک معتبر نام صوبہ بلوچستان کی سوشل ورکر و تعلیمی فکر مند محترمہ فوزیہ شہزاد کا بھی ہے جنہوں نے اپنی زندگی غریب بچوں کو تعلیم دینے کیلئے وقف کردی ۔انہوں نے بنیادی تعلیم کوئٹہ سے حاصل کی اور انہوں نے اپنا 16 سالہ کیریئریتیم اور غریب بچوں کو تعلیم دینے میں وقف کیا اور اپنی مدد آپ کے تحت اس وقت محترمہ فوزیہ شہزاد پریمیئر پبلک سکول چلا رہی ہیں ۔ ” ہفت روزہ مسائل کوئٹہ“ کی ٹیم نے ان سے ایک نشست کا اہتمام کیا ۔۔۔!
جو قارئین کیلئے پیش خدمت ہے۔۔۔۔۔۔۔!


سوشل ورکر و تعلیمی فکر مند محترمہ فوزیہ شہزاد نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہر چیز سے نوازا ہے جو خواب تھے وہ بھی پورے ہوئے اب زندگی یتیموں کو تعلیم دلانے میں گزار رہی ہوں یہی میرے لئے کافی ہے،بے شک دنیا نے ساتھ نہیں دیامگر اپنوں نے کبھی اکیلا نہیں چھوڑا، یہی میرے لئے ایک خلوص و محبت ہے اپنوں نے میرا ساتھ ہر پل دیا ہے وہ قدم بہ قدم میرے ساتھ رہے ہیں ان کی قربانیاں کبھی بھول نہیں سکتی۔
پرائیویٹ تعلیمی اداروں کا سولہ سالہ کیریئر یتیم بچوں کو تعلیم فراہم کرنے پر خرچ کررہی ہوں اس میں کوئی شک نہیں کہ کوئی این جی او یا دیگر کسی نے کبھی مدد نہیں کی ہے آج مجھے خود پر فخر ہے کہ میں فوزیہ شہزاد غریبوں کی مدد کررہی ہے اس میں خاص کر میرے لائف پارٹنر شہزاد محمود نے میرا بھرپور ساتھ دیا کیونکہ ہم کسی گورنمنٹ کو جواب دہ نہیں جو ہوتا ہے وہی کرتے ہیں وہ اس وقت اسپیشل ہائی اسکول میں بطور جے ای ٹی ٹیچر خدمات سرانجام دے رہے ہیں،الحمداللہ ہمارے سو سے زائد رشتہ دار اسکولز میں پڑھاتے ہیں پورے محلے میں جتنے بھی اسکولز ہیں اس میں ایک نہ ایک رشتہ دار بطور ٹیچر ڈیوٹی دیتا ہے ،یوں سمجھیں کہ ہمارے جتنے بھی لوگ ہیں وہ صرف تعلیمی اداروں میں ہیں۔اس وقت میں پریمیئر پبلک اسکول میکانگی روڈ کوئٹہ میں پرنسپل ہوں،لوگ سمجھتے ہیں یہ ایک پرائیویٹ سیکٹرہے لیکن اس سے بڑھ کر یہ ادارہ ایک ٹرسٹ ہے یہاں پر یتیموں کو تعلیم فراہم کی جاتی ہے حسب برداشت بچوں کی کفالت بھی کی جاتی ہے بچوں کو یونیفارم،کتابیں،اسٹیشنری و دیگر ضروریات تعلیم چیزیں مہیا کی کرتی ہے،یہ ایک اللہ والا کام ہے جس کا ہر ایک مسلمان کا دل کرتا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی مدد سے حسب توفیق ہر رمضان میں بچوں اور بڑوں سحری و افطاری کراتے ہیں یہ اللہ نے مجھے بہت خدمت کا موقع عطاءکیا ہے کہ رمضان کے مقدس مہینے میں لوگ اس گھر سے کھانا کھاتے ہیں اس میں کوئی پابندی کی بات نہیں ہر کوئی چھوٹا ہو یا بڑا آکر یہاں افطاری کرتے ہیں ہمیں کسی اطلاع دینے کی ضرورت نہیں پڑتی سو کے قریب بچے آتے ہیں سب کو معلوم ہے کہ اس گھر میں افطار پارٹی ہوتی ہے اسی لئے چلے آتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی ذات کی سپورٹ ہے اس کے علاوہ ہم کوشش کررہے ہیں کہ ان لوگوں کو بھی کوئی راہ دکھائیں جو پڑھے لکھے تو نہیں مگر انکو زندگی گزارنا ہے ان کے لئے سلائی مشین و دیگراشیاءضروریات فراہم کرنا،لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ ہم آج کی ایک روٹی کا بندوبست کرکے کل کو پچاس روٹیوں کےلئے اپنے بچوں کو کام کاج کی بجائے تعلیم دیں اسی لئے تو ہم تعلیم میں پسماندہ ہیں۔بلوچستان ہر دور میں تعلیم میں پسماندہ رہا ہے 2013 سے صوبہ میں تعلیمی ایمرجنسی لگا ہے اس کے باوجود ہم تعلیمی پسماندگی کاشکار رہے ہیں اگر ہم پڑھیں گے تو ہم ہی میں سے ڈاکٹر قدیر،قائد اعظم اور علامہ اقبال جیسی شخصیات پیدا ہونگی اس کیلئے ہمیں زیادہ سے زیادہ توجہ درکار ہیں ہماری بھی دو ٹانگیں،دو آنکھیں،دو ہاتھ ہیں آخر ہم ایسا کیوں نہیں کرسکتے میں یہ اداروں میں ایسے لوگوں کو تعلیم دے رہی ہوں جو خود میں ہمت رکھتا ہو ایسا نہیں کہ میرے بچے کسی اور اسکول میں پڑھے اور باقی لوگوں کے بچے میرے اسکول میں،معاشرہ میں ایک غلط سوچ پیدا ہوتی ہے کہ اپنے بچے اے پی ایس، پاک ترک وغیرہ میں پڑھ رہے ہیں اور ہمارے بچے اس چھوٹے سے اسکول میں پڑھ رہے ہیں ایک بچہ میرے پاس دس سال کی عمر میں آیا اب وہ کافی بڑا ہوا ہے ایسے ہی ہم لوگوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں یہاں پر این جی اوز صرف نام کے ہیں کافی لوگوں نے مدد کی یقین دہائی کرائی ہے مگر عملی طور پر کسی نے ساتھ نہیں دیا ہم مدد کرتے وقت یہ نہیں سوچتے کہ بچے کس خاندان اور کس برادری سے تعلق رکھتے ہیں اس وقت 37 اقلیتی بچے جو ہمارے ساتھ پڑھ رہے ہیں ان کے تعلیمی اخراجات میں اپنی مدد آپ کے تحت پورا کررہی ہوں ان کے اساتذہ کے لئے فیس بھی میری ذمہ داری ہے کئی مرتبہ سیکرٹریٹ گئی ہوں لیکن وہاں سال میں متعلقہ شخص ایک ہی دفعہ نظر آتا ہے پہلی ملاقاث میں ٹائم لیکر دوسری بار جاﺅ تو وہ نہیں ملتا۔حالانکہ سماجی اداروں اور حکومت کو چاہئے کہ تعلیم کے فروغ اور غربت کے خاتمے کیلئے ایسے اداروں کی بھر پور مدد اور حوصلہ افزائی کرے ۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.