Masael Quetta

پولیو، پولیو سے نجات اور ہماری ذمہ داریاں

2 638

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

پولیو، پولیو سے نجات اور ہماری ذمہ داریاں
تحریر:بشیر احمد بڑیچ

- Advertisement -

سب سے پہلے یہ سمجھ بوجھ اور شعورہونا ضروری ہے کہ پولیو کیا بلا ہے؟ اور کیوں ہے؟ اسکے خاتمے کیلئے اخراجات کیوں ہورہے ہیں؟ ان دو قطروں کیلئے اتنی بڑی تعداد میں افرادی قوت کو کیوںمصروف کار رکھا جاتا ہے جو گلی گلی، کوچہ کوچہ اور گاوں گاوں میںاپنی ذمہ داریاں پوری کررہے ہوتے ہیں ان تمام باتوں کا پتا نہ ہو من گھڑت مفروضے قائم کرنا اور ان مفروضوں کی تبلیغ کرنا؟عقل اور فہم سے بالاتر ہے۔

پولیو(Poliomyelitis)ایک ایسی بیماری ہے جوکہ شخص در شخص منتقل ہوتی ہے یہ درحقیقت اعصاب کو کمزور کردینے والی بیماری ہے اس بیماری کے مریض کا کوئی علاج ممکن نہیں ہے۔اس بیماری کے وائرس کا شکار عموماََ15سال تک کے بچے ہوتے ہیں اس کا وائرس ایک شخص سے دوسرے شخص یا بچے میں منتقل ہوکر پرورش پاتا ہے اور اس کو متاثر کرتا ہے یہ وائرس متاثرہ شخص یا بچے کے دماغ اور ریڑھ کی ہڈی پر اثر انداز ہوتا ہے جس کے نتیجے میں فالج ہوجاتا ہے پولیو کا وائر س چونکہ بڑوں اور بچوں میں یکساں طورپر داخل ہوسکتا ہے اور ساتھ ساتھ پھلنے پھولنے اور پرورش پانے کیلئے اس کے جسم میں موجود رہتا ہے یہاں یہ بات بتانا لازمی ہے کہ وائرس اگر بچوں اور بڑوں کو لگ سکتا ہے تو صرف بچے کیوں متاثر ہوتے ہیں اصل میں ڈاکٹروں کے مطابق یہ وائرس ایک ایسا وائرس ہے جو 15سال سے کم عمر بچوں پر حملہ کرکے ان کو متاثر کرتا ہے کیونکہ بچوں میں بڑوں کے مقابلے میں قوت مدافعت کم ہوتی ہے اس وائرس کو بچوں کے ساتھ ساتھ بڑے بھی پھیلاسکتے ہیںیہ وائرس پاخانہ کے ذریعہ جسم سے نکل کر دوسرے کسی بچے یا بڑے فرد کو بھی لگ سکتا ہے۔
1960 کی دہائی میں اس مرض کی ویکسین ایجاد ہوئی یہ ویکسین 1966میں قطروں کی صورت میں پلائی جانے لگی پولیو 1998تک دنیا کے تقریباََ تمام ممالک میں موجود تھااور براعظم افریقہ کے تمام ہی ممالک اس سے شدید متاثر تھے 2011 تک پولیو صرف پاکستان ، بھارت، افغا نستان اور نائیجریا میں رہ گیا تھا بھارت کو 2011میں پولیو فری قرار دیا گیااور اس کے بعد 2014میں نائیجریا میں بھی پولیو ختم ہوچکا ہے اور اب پولیو صرف پاکستان اور افغانستان میں رہ گیا ہے نومبر 2014میں عالمی ادارہ صحت نے پاکستان کو دنیا بھر میں پولیو وائرس پھیلانے والا ملک قرار دیاپاکستانیوں پر سفری پابندی بھی عائد کی گئی اور پاکستانیوں کیلئے پولیو ویکسینیشن کولازمی قرار دیا گیا اور بغیر ویکسینیشن سرٹیفکیٹ کے اکثر مسافروں کو سفر سے روکا بھی گیا اور پاکستان سے کہا گیا کہ 6ماہ میں پولیو پر کنٹرول حاصل کریں اور مزید کہا گیا کہ اگر ان باتوں پر عمل نہیں کیا گیا تو پاکستانی مسافروں کی اسکریننگ کیجائے گی۔ اگر اس بات پر غورکیا جائے تو یہ پوری دنیا میں پاکستان کیلئے بدنامی کا باعث ہے تمام ممالک بشمولِ عالمی ادارہ صحت کی نظریں پاکستان پر لگی ہیں کہ کب یہ ملک پولیو فری بنے گاکوئی شک نہیں کہ موجودہ حکومت پاکستان سے پولیو کی مکمل خاتمے کیلئے سنجیدہ کوششیں کررہی ہے اسی وجہ سے پولیو کے کیسسزمیں کافی حد تک کمی بھی واقع ہوئی ہے اس وقت پاکستان میں پولیو کے وائرس پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی، کوئٹہ، کچھ وفاقی قبائلی ایجنسیوں اور خیبر پختونخواہ کے کچھ علاقوں میں موجود ہے وائرس کا کوئٹہ اور کراچی میں موجودگی کی وجہ سے بلوچستان اور سندھ کے تقریباََ تمام اضلاع اور مضافاتی علاقے ہائی رسک پر ہیں اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ روزانہ سینکڑوں افراد بسلسلہ تجارت،روزگار، دفتری کام اور دیگر امور کو نمٹانے کیلئے ان شہروں کا رخ کرتے ہیں اور واپس لوٹتے ہیں اس کے علاوہ یہ پاکستان کے ہمسایہ ملک افغانستان سے آئے ہوئے افغان مہاجرین کی مہربانیوں کی وجہ سے بھی پاکستان کے کئی شہروں میں پھیل گیا ہے اور ایک سروے کے مطابق پاکستان میں پولیو ویکسینیشن کے سب سے بڑے انکاری بھی یہی مہاجرین ہیں جبکہ پنجاب میں کوئی ایک ایسا بچہ نہیں جس کو پولیو ویکسین نہیں دی گئی ہو بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں حالات اور کچھ ناممکن رسائی(جہاں ویکسین کا لیکر جانا ممکنات میں نہ ہو)کی وجہ سے کچھ بچے پولیو ویکسین سے رہ جاتے ہیں مگر سندھ کی جہاں تک مسنگ پوزیشن ہے وہ سمجھ سے بالاتر ہے؟ پھر بھی پہلے کی نسبت پاکستان میں پولیو کی کیسسز میں نمایاں کمی ہوئی ہے مگر اصل بات کمی لانے کی نہیں ہے کیوں کہ پاکستان کو بالکل پولیو فری بنانا ہے تب تعریف گردانی جائے۔
پولیو اور اسکی ویکسین کے بارے میں جو غلط فہمیاں ہیں کہ یہ ویکسین نقصان دے ہے،حرام ہے، ناپاک ہے،خاندانی منصوبہ بندی کیلئے ہے،کئی دیگر بیماریوں کا سبب ہے،ان تمام غلط فہمیوں کا جواب یہ ہے کہ ممتاز و جید علماءکرام نے اپنے اپنے طورپراس ویکسین (OPV)کی اپنے اپنے ملکوں کے مایہ ناز ڈاکٹروں اور تحقیق کاروں سے تحقیق کروائی جس کے بعد ثابت ہوا کہ پولیو ویکسین میں انسانی صحت کیلئے کوئی مضر چیز شامل نہیں ہے۔ اس کا تمام تر کریڈٹ ہمارے علماءکرام جنہوں نے اپنے اپنے فتاویٰ اور تحقیق کے ذریعے پولیو ویکسین کو ایک غیر نقصان دے، غیر مضر صحت ،حلال اور فائدہ مند قرار دیاہے، میڈیا، محکمہ صحت، رضاکار، سماجی تنظیمیں اور حکومت کی پالیسیوں کو جاتا ہے اور وہ اس کے مستحق بھی ہیں مگر پھر بھی کچھ مزید مستحکم اور موثر حکمت عملیوں کی ضرورت ہے جس کے ذریعے بہت جلد پاکستان کو پولیو فری ممالک کی فہر ست میں درج کیا جاسکتا ہے اب کوئی یہ سوچتا ہوگا کہ پولیو فری کیسے ہوتا ہے؟ تو اس کیلئے یہ جواب ہے کہ اگر کسی ملک میں لگاتار 2سال تک کھوج لگا نے کے باوجود پولیو کا کوئی کیس ریکارڈ نہ ہو تو وہ ملک پولیو فری قرار دیا جاتا ہے مثلاً اگر بنگلا دیش کو مدنظر رکھا جائے کہ بنگال حکومت نے تین گروپ بنائے اور کرفیو لگا گرمہم چلائی اور 15سال پہلے پولیو کا خاتمہ کرکے دنیا کے پولیو فری ممالک میں بنگلادیش کو لاکھڑا کردیاحیر ت کی بات تو یہ ہے کہ 15سال پہلے بنگلادیش میں نہ میڈیا سرگرم تھا اور نہ خواندگی کی شرح نارمل تھی پھر بھی وہاں سے پولیو وائرس کا ہمیشہ کیلئے خاتمہ کیا گیا ۔
پولیو مرض کو صرف انتظار اور تماشائی بن کر رضاکاروں کو دیکھنے سے اور من گھڑت باتیں کسنے سے ہرگز ختم نہیں کیا جاسکتا اس لعنت سے نمٹنے کیلئے سب سے اہم کوشش کمیونٹی انوالومنٹ اور دلچسپی ضروری ہے پولیو چونکہ ایک ایسا مرض ہے جسکی تشخیص سے پہلے ویکسی نیشن ممکن ہےبعد میں اس کا کوئی علاج ممکن نہیں اس لیئے اس کی ویکسینیشن مرض کو روکنے کیلئے مرض لاحق ہونے سے پہلے کی جاتی ہے۔سب سے پہلا کام یہ ہے کہ بچے کی پیدائش پرکسی بھی قریبی( EPI)سینٹر سے بچے کے روٹین کے ٹیکے لگوائیں جن میں پولیو کا( IPV)ڈوز بھی شامل ہے جس سے نہ صرف بچہ پولیو سے محفوظ رہے گا بلکہ وہ دیگر تمام بڑے اور مہلک امراض سے بھی محفوظ رہیگا۔ایک رپورٹ کے مطابق رواں سال پاکستان میں تقریباً 45کیسز سامنے آئے ہیں جبکہ ایمر جنسی آپریشن سینٹربلوچستان کوآرڈی نیٹر کے مطابق بلوچستان کے 2 اضلاع میں حالیہ 2پولیوکیسزرپورٹ ہونے کے بعدبلوچستان کے6 اضلاع میں22 جولائی سے سات روزہ خصوصی مہم شروع کی گئی ہیں22جولائی سے نصیر آباد،جعفرآباد،جھل مگسی،صحبت پور جبکہ کوئٹہ اور قلعہ عبداللہ میں 29 جولائی سے پولیو مہم شروع کی جائے گی ان سات روزہ مہم جو قومی لیول پر یا سپلیمنٹری لیول پر چل رہی ہیں ان میں رضاکاروں اور محکمہ صحت کے لوگوں سے مکمل تعاون کرکے گھر گھر میں ہر5سال سے کم عمر بچوں کو دو قطرے پلانے اور پلوانے میں معاونت کا کردار ادا کریں۔ تاکہ ہمارے پھول جیسے نونہال بچے عمر بھر کی معذوری سے بچ سکیں پولیو ٹیم کو اپنا خیر خواہ مان کر ان کا اس نیک کام کیلئے شکریہ ادا کریں رہ جانے والے یا غیر موجود بچوں کو قریبی مرکز صحت میں بھیج کر یا لاکر انہیں پولیو ویکسین کے قطریں ضرور پلوائیں محکمہ صحت کے عملے پر بھی بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں کہ وہ اس طرح کا طریقہ کار اپنائے جس کے ذریعہ گھر گھر اور ہر بچے تک پولیو ویکسین کی رسائی حاصل ہوسکے اور وہ رنگ و نسل سے بالاتر ہوکر امیر و غریب، معتبر و خانہ بدوش سب کو وقت دیکر ان کے نونہالوں کو پولیو کے قطرے پلائیں اور اس کام کو اپنا نصب العین سمجھ کر خوب محنت کریں تاکہ بہت جلد ہمارے ملک سے پولیو کک آوٹ ہوجائے اور پھر کبھی دوبارہ یہاں آکر پر نہ مار سکے۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.