Masael Quetta

طالبان نے میرے جسم کو جو نقصان پہنچایا ڈاکٹر آج بھی اس کا علاج کررہے ہیں، ملالہ

1 571

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

لندن(ویب ڈیسک)دنیا کی کم عمر ترین نوبیل انعام یافتہ پاکستانی اور انسانی حقوق کی کارکن ملالہ یوسفزئی نے خود پر کیے گئے حملے کے 9 برس بعد بھی اب تک علاج جاری رہنے سے متعلق بتاتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان نے میرے جسم کو جو نقصان پہنچایا ڈاکٹر اس کا علاج آج بھی کررہے ہیں۔ملالہ یوسفزئی نے افغانستان میں طالبان کی واپسی کے تناظر میں اپنے علاج سے متعلق مضمون فیس بک کے بلیٹن پوڈیم کے لیے تحریر کیا جس میں انہوں نے 2012 سے لے کر اب تک جاری رہنے والی سرجریز پر بات کی ہے۔خیال رہے کہ ملالہ یوسفزئی پر نامعلوم افراد نے 9 اکتوبر 2012 کو سوات کے مرکزی شہر مینگورہ کے قریب حملہ کردیا تھا، ان کے ساتھ مزید دو طالبات بھی زخمی ہوئی تھیں اور بعد ازاں حملے میں طالبان کے ملوث ہونے کے شواہد ملے تھے۔اپنے مضمون کا آغاز کرتے ہوئے ملالہ نے لکھا کہ ‘2 ہفتے قبل جب امریکی افواج، افغانستان سے انخلا کررہی تھیں اور طالبان کنٹرول حاصل کررہے تھے، اس وقت میں بوسٹن کے ایک ہسپتال میں بستر پر لیٹی اپنے چھٹے آپریشن سے گزر رہی تھی، کیونکہ طالبان نے میرے جسم کو جو نقصان پہنچایا تھا، ڈاکٹروں اس کا علاج کررہے تھے۔اکتوبر 2012 میں ہونے والے حملے میں ایک گولی سے خود کو پہنچنے والے نقصان سے متعلق ملالہ یوسفزئی نے کہا کہ گولی نے میری بائیں آنکھ، کھوپڑی اور دماغ کو چیر دیا تھا، میرے چہرے کو زخمی کردیا تھا، میرے کان کا پردہ توڑ دیا تھا اور میرے جبڑے کے جوڑوں کو شدید نقصان پہنچایا تھا۔انہوں نے لکھا کہ پاکستان کے شہر پشاور کے ایمرجنسی سرجنز نے میری بائیں کھوپڑی کی ہڈی کو ہٹا دیا تھا تاکہ میرے دماغ کو چوٹ لگنے کے نتیجے میں ہونے والی سوجن کے لیے جگہ پیدا ہو، ان کی بروقت کارروائی نے میری جان بچائی تاہم جلد ہی میرے اعضا نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا اور مجھے طیارے کے ذریعے اسلام آباد لے جایا گیا تھا۔ملالہ نے کہا کہ ایک ہفتے بعد ڈاکٹرز نے اس بات کا تعین کیا کہ مجھے زیادہ دیکھ بھال کی ضرورت ہے اور علاج جاری رکھنے کے لیے مجھے اپنے وطن سے باہر منتقل کیا جانا چاہیے۔انہوں نے بتایا کہ اس دوران مجھے کوما میں رکھا گیا تھا، مجھے اس وقت سے لے کر برمنگھم کے کوئین الزبتھ ہسپتال میں ہوش میں آنے تک کچھ بھی یاد نہیں ۔برطانیہ کے ہسپتال میں ہوش میں آنے سے متعلق ملالہ نے کہا کہ جب میں نے اپنی آنکھیں کھولیں تو مجھے احساس ہوا کہ میں زندہ ہوں لیکن میں نہیں جانتی تھی کہ میں کہاں تھی یا میں کیوں انگریزی بولنے والے اجنبیوں سے گھری ہوئی تھی۔ملالہ یوسفزئی نے اپنے علاج کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ جب پاکستانی سرجنز نے میری کھوپڑی کی ہڈی کا کچھ حصہ ہٹایا تھا تو اسے میرے پیٹ میں منتقل کردیا تھا تاکہ کچھ عرصے بعد وہ میری دوسری سرجری کرکے اسے دوبارہ سر میں ڈال سکیں۔انہوں نے کہا کہ برطانوی ڈاکٹرز نے انفیکشن کے خطرے کو کم کرنے کے لیے اس جگہ پر ٹائٹینیم پلیٹ لگانے کا فیصلہ کیا تھا جہاں میری کھوپڑی کی ہڈی تھی، اس طریقے کو کرینیو پلاسٹی کہتے ہیں۔ملالہ نے کہا کہ ڈاکٹرز نے میری کھوپڑی کا ٹکڑا میرے پیٹ سے نکال لیا جو آج میرے بک شیلف پر موجود ہے۔انہوں نے بتایا کہ ٹائٹینیم کرینیو پلاسٹی کے دوران میرے کان میں اس جگہ پر کوکلئیر امپلانٹ بھی کیا گیا جہاں گولی نے میرے کان کے پردے کو نقصان پہنچایا تھا۔حملے کے نتیجے میں ملالہ کے چہرے کو پہنچنے والے نقصان کا بھی کافی علاج ہوا، انہوں نے کہا کہ برطانیہ پہنچنے کے 6 ہفتے بعد ڈاکٹرز نے میرے مفلوج چہرے کے علاج کا فیصلہ کیا، انہوں نے دوبارہ میرے چہرے کو کاٹ دیا تھا اور شدید کٹی ہوئی رگوں کو اس امید پر دوبارہ جوڑنے کی کوشش کی کہ ان کی نشوونما ہوگی اور یہ نقل و حرکت میں مدد کریں گی۔انہوں نے کہا کہ نرو سرجری کے چند ماہ بعد اور چہرے کے باقاعدہ مساج کے ساتھ میرے توازن اور نقل و حرکت میں تھوڑی بہتری آئی۔ملالہ نے کہا کہ اگر میں بند ہونٹوں سے مسکراو ¿ں تو اس طرح میں تقریباً اپنا پرانا چہرہ دیکھ سکتی تھی، جب میں ہنستی تو اپنے ہاتھوں سے اپنا منہ ڈھانپ لیتی تھی تاکہ لوگ یہ نہ دیکھیں کہ چہرے کا ایک حصہ دوسرے حصے کی طرح کام نہیں کر رہا۔چہرے کے مفلوج حصے کے مزید علاج کے لیے ملالہ یوسفزئی کو 2018 اور 2019 میں 2 سرجریز سے گزرنا پڑا جبکہ تیسری رواں برس اگست میں ہوئی جس کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ ‘2018 میں ڈاکٹرز نے سب سے پہلے میری پنڈلی سے ایک نس نکالی اور اسے میرے چہرے میں نصب کیا جو دائیں طرف سے بائیں طرف حرکت کرتی تھی’۔انہوں نے کہا کہ 2019 میں ڈاکٹرز نے میری ٹانگ سے ٹشو لیا اور اسے میرے چہرے کے بائیں جانب نصب کیا اور امید ظاہر کی کہ نس ٹشو سے جڑ جائے گی اور میرے چہرے کے پٹھوں کو سگنلز بھیجنا شروع کر دے گی۔تیسری سرجری سے متعلق ملالہ نے بتایا کہ 9 اگست کو بوسٹن میں، میں اپنی حالیہ سرجری کے سلسلے میں ہسپتال جانے کے لیے صبح 5 بجے اٹھی اور خبر دیکھی کہ طالبان نے افغانستان کے پہلے بڑے شہر قندوز پر قبضہ کر لیا تھا۔ملالہ نے کہا کہ اگلے چند روز تک آئس پیکس کے ساتھ میرے سر کے گرد پٹی لپیٹ دی گئی تھی، میں ٹی وی پر دیکھتی رہی کہ ایک صوبے کے بعد دوسرا صوبہ ان کے سامنے ہتھیار ڈالتا رہا جن کی بندوقیں اس شخص کی بندوق کی طرح گولیوں سے بھری ہوئی تھیں جس نے مجھے نشانہ بنایا تھا۔انہوں نے کہا کہ جیسے ہی میں دوبارہ بیٹھنے کے قابل ہوئی، میں فون کالز کر نے لگی، دنیا بھر کے سربراہانِ مملکت کو خط لکھنے لگی اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ان کارکنان سے بات کرنے لگی جو ابھی تک افغانستان میں تھے۔ملالہ نے کہا کہ گزشتہ 2 ہفتوں کے دوران ہم ان میں سے کئی کارکنان کو ان کے اہلخانہ سمیت محفوظ مقام تک پہنچانے میں مدد کر سکے ہیں لیکن میں یہ جانتی ہوں کہ ہم سب کو نہیں بچا سکتے۔انہوں نے کہا کہ جب طالبان نے مجھے گولی ماری تھی تو پاکستان میں موجود صحافی اور چند بین الاقوامی میڈیا آو ¿ٹ لیٹس پہلے ہی میرا نام جانتے تھے، وہ جانتے تھے کہ میں برسوں سے، شدت پسندوں کی جانب سے لڑکیوں کی تعلیم پر لگائی گئی پابندی کے خلاف آواز اٹھا رہی تھی۔ملالہ یوسفزئی نے کہا کہ انہوں نے حملے کو رپورٹ کیا اور دنیا بھر کے لوگوں نے اس پر ردِ عمل دیا لیکن یہ ردِ عمل مختلف بھی ہوسکتا تھا اور میری کہانی شاید ایک مقامی خبر میں ختم ہوجاتی کہ ’15 سالہ لڑکی کو سر میں گولی مار دی گئی۔انہوں نے مضمون میں کہا کہ میں ہوں ملالہ کا بینر تھامے لوگوں کے، ہزاروں خطوط اور مدد کی پیشکشوں، دعاو ¿ں اور خبروں میں تذکروں کے بغیر، شاید مجھے طبی امداد نہ ملتی۔ملالہ یوسفزئی نے کہا کہ میرے والدین یقینی طور پر خود ان اخراجات کو پورا کرنے کے قابل نہ ہوتے اور شاید میں زندہ نہ رہتی۔انہوں نے کہا کہ 9 سال بعد میں اب تک صرف ایک گولی سے صحتیاب ہو رہی ہو، افغانستان کے لوگوں نے تو پچھلی 4 دہائیوں میں لاکھوں گولیاں کھائی ہیں۔ملالہ یوسفزئی نے کہا تھا کہ میرا دل ان لوگوں کے لیے تڑپتا ہے جن کے نام ہم بھول جائیں گے یا انہیں کبھی جان بھی نہیں سکیں گے اور جو مدد کے لیے پکار رہے ہیں لیکن ان کی مدد کے لیے کوئی نہیں آسکے گا۔انہوں نے مضمون میں کہا کہ چند روز قبل میں نے اپنی بہترین دوست کو فون کیا تھا، جب مجھ پر حملہ ہوا تھا اس وقت وہی لڑکی جو اسکول بس میں اس وقت میرے ساتھ بیٹھی تھی، میں نے پوچھا کہ مجھے دوبارہ بتائیں اس دن کیا ہوا تھا۔ملالہ نے کہا کہ میرے جسم پر ایک گولی اور کئی آپریشنز کے نشانات ہیں لیکن اس دن کی کوئی یاد میرے ذہن میں نہیں اور 9 برس بعد بھی میری بہترین دوست کو اب تک ڈراو ¿نے خواب آتے ہیں۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.