Masael Quetta

عثمان کاکڑ کی موت ایک معمہ کیوں بن گئی؟ قتل کا دعویٰ کیوں

بی بی سی رپورٹ،کوئٹہ

2 358

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

بی بی سی رپورٹ،کوئٹہ

عثمان خان کاکڑ کی موت ایک معمہ کیسی بن گئی اور اس کی تحقیقات کا مطالبہ زور کیوں پکڑ رہا ہے؟

پشتونخوامیپ نے حال ہی میں وفات پانے والے اپنے رہنما محمد لالا عثمان خان کاکڑ کی موت کو قتل قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے پاس اس کے شواہد موجود ہیں۔

بلوچستان سے تعلق رکھنے والی چند دیگر سیاسی جماعتوں نے بھی پی کے میپ کے اس مطالبے کی حمایت کی ہے جبکہ بلوچستان حکومت نے تحقیقات کروانے پر رضامندی کا اظہار کیا ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے 17 جون کو یہ بات سامنے آئی تھی کہ عثمان کاکڑ کے سر پر گہری چوٹ آئی ہے۔ اُن کا ابتدائی علاج کوئٹہ میں ہوا تھا اور زخم گہرا ہونے کے باعث ان کے سر کے آپریشن میں ساڑھے چار گھنٹے لگے تھے۔

بلوچستان کی بولان میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور ممتاز نیورو سرجن ڈاکٹر نقیب اللہ اچکزئی نے کہا ہے کہ عثمان کاکڑ کے ابتدائی سی ٹی سکین کے مطابق سر پر چوٹ لگنے سے پہلے اُن میں بلڈ پریشر، برین ہیمرج یا اس نوعیت کی کسی اور بیماری کے آثار نہیں پائے گئے۔

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماﺅں کا دعویٰ ہے کہ عثمان کاکڑ کو اس لیے نشانہ بنایا گیا کیونکہ وہ پاکستان میں سویلین بالادستی کے ایک بڑے وکیل تھے اور وہ سیاسی معاملات میں مداخلت پر خفیہ اداروں اور اسٹیبلشمنٹ کو برملا تنقید کا نشانہ بناتے تھے۔

وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیا اللہ لانگو کا کہنا ہے کہ ’ملک دشمن عناصر ان کی موت کے حوالے سے غلط فہمیاں پیدا کرنا چاہتے ہیں۔`

دوسری جانب بلوچستان کے وزیر اعلیٰ جام کمال خان نے کہا ہے کہ حکومت عثمان کاکڑ کے خاندان کے ساتھ تحقیقات کے حوالے سے ہر قسم کے تعاون کے لیے تیار ہے۔

17 جون کو گھر میں بے ہوش ہونے کے بعد کیا ہوا؟
عثمان کاکڑ کا خاندان کوئٹہ کے علاقے شہباز ٹاﺅن میں رہائش پذیر ہے۔ گھر میں اس مبینہ چوٹ کے نتیجے میں بے ہوش ہونے کے بعد اُنھیں گھر کے قریبی واقع ایک نجی ہسپتال منتقل کیا گیا۔ اس حوالے سے کوئی وضاحت موجود نہیں ہے کہ اُنھیں یہ چوٹ کیسے لگی۔

اُن کی پارٹی کا مؤقف ہے کہ اُنھیں ’سویلین بالادستی کی حمایت کرنے پر نشانہ بنایا گیا ہے۔‘

پشتونخوا میپ کے صوبائی ڈپٹی سیکریٹری یوسف خان کاکڑ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جس وقت عثمان کاکڑ گھر میں تھے تو ان کے گھر میں ان کی ایک 11 سالہ بچی اور ایک خاتون کے سوا کوئی اور نہیں تھا۔

انھوں نے بتایا کہ عثمان کاکڑ گھر کے نچلے حصے میں تھے اور بچی بھی اس حصے میں تھی جبکہ خاتون اوپر والی منزل پر تھی۔ یوسف خان کاکڑ نے بتایا کہ عثمان کاکڑ اپنے گھر کے ایک کمرے میں آرام کرنے گئے تو ان کی بچی ان کے پاس موجود نہیں تھی۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ اس دوران باہر سے گھر کے اندر داخل ہونے والے لوگوں نے ان پر حملہ کیا۔

بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو اور پارلیمانی سیکرٹری صحت ڈاکٹر ربابہ بلیدی کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان کے ممتاز نیورو سرجن ڈاکٹر نقیب اللہ اچکزئی نے بتایا کہ ان کو نجی ہسپتال سے فون آیا کہ عثمان کاکڑ بے ہوش ہیں۔

- Advertisement -

ان کے بقول ’مجھے بتایا گیا کہ سی ٹی سکین کروایا گیا ہے اور ان کے سر پر شدید چوٹ ہے۔ ان کے سر میں خون جم گیا ہے اس لیے آپ ان کے سر کے آپریشن کا فوری انتظام کریں۔‘

انھوں نے کہا کہ جب عثمان کاکڑ کو دوسرے نجی ہسپتال کے آپریشن تھیٹر میں لایا گیا تو رات کے آٹھ بج رہے تھے۔

’جب میں نے انھیں دیکھا تو ان کے کپڑوں پر قے کے نشانات تھے۔ جب سر پر چوٹ لگے تو ایسی حالت میں قے آتی ہے اور پھر انسان اپنا ہوش کھو دیتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد میں نے ان کی دماغی حالت دیکھی جس کا ایک پیمانہ ہوتا جسے گلاسگو کوما سکیل کہتے ہیں، ’یہ تین سے 15 تک ہوتا ہے۔ تین کا مطلب ہے موت جبکہ 15 ہم جیسے نارمل انسانوں کا ہوتا ہے۔ عثمان کاکڑ کا چار تھا یعنی موت سے صرف ایک گریڈ کم۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’ان کی پتلیوں میں کوئی حرکت نہیں تھی تاہم وہ سانس لے رہے تھے۔ سی ٹی سکین میں ان کی دماغ کی سوجن زیادہ نظر آئی۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ایسی حالت میں فوری طور پر آپریشن کرنا ضروری ہوتا ہے اس لیے سینیئر ڈاکٹروں کی ٹیم نے جلد سے جلد آپریشن کرنے فیصلہ کیا۔

نیوروسرجن ڈاکٹر نقیب اللہ اچکزئی کا کہنا تھا ’آپریشن اور ادویات دینے سے پہلے ان کے دائیں جانب جھٹکے لگے جو کہ بہت زیادہ خطرناک بات تھی کیونکہ یہ دماغ کی سوجن کو بڑھا سکتا تھا تاہم ہمارے سینیئر ڈاکٹروں نے بروقت ان کو دوائیاں دیں جس سے ان کی حالت سنبھل گئی۔‘

انھوں نے بتایا کہ جب انھوں نے عثمان کاکڑ کے سر کے بال صاف کیے تو دیکھا کہ ان کے سر کے بائیں طرف سوجن تھی اور ان کو کند چوٹ لگی تھی۔

’یہ کسی وجہ سے بھی لگ سکتی ہے۔ ایک مفروضہ تھا کہ ان کو پہلے ہیمرج ہو گیا ہو گا جس کے بعد وہ گر گئے لیکن سی ٹی سکین میں ہیمرج نہیں تھا۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ جو ضروری سرجری تھی وہ انھوں نے کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ان کے دماغ کو زیادہ نقصان پہنچا تھا اور سوجن زیادہ ہونے کہ وجہ سے وہ باہر نکل رہا تھا جس پر ہم نے اس کو اضافی پردہ لگانے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ محفوظ رہے اور اس کو خون کی فراہمی برقرار رہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ سرجری کے دوران ان کے ریسپانسز بہتر ہوئے اور آپریشن رات ایک بج کر 33 منٹ پر مکمل ہوا۔

’اس کے بعد ان کے رشتے داروں اور سیاسی قیادت نے ماہر ڈاکٹروں کا انتظام کیا تھا جنھوں نے ان کو ایک اور پرائیویٹ ہسپتال کے آئی سی یو میں منتقل کیا۔‘

نیورو سرجن ڈاکٹر نقیب اللہ اچکزئی کا کہنا تھا کہ ’رات چار بجے تک میں بھی وہاں رہا۔ صبح سات بجے میں وہاں پہنچا تو ان کے فزیکل ریسپانسز قدرے بہتر ہو گئے تھے جس پر ہمیں یہ امید ہوئی کہ اگر یہی صورتحال رہی تو اگلے چند دن میں دماغ کی سوجن کم ہو جائے گی۔ تاہم اگلے 24 گھنٹے میں عثمان کاکڑ کی حالت دوبارہ خراب ہو گئی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ان کے سیاسی قیادت اور دیگر اہم شخصیات سے رابطے تھے جنھیں انھوں نے رائے دیتے ہوئے بتایا کہ عثمان کاکڑ کے بچنے کے امکانات کم ہیں کیونکہ ان کے سر کا جو ابتدائی زخم تھا اس میں موت کے 80 فیصد امکان تھا لیکن 24 گھنٹے بعد جب ان کی حالت خراب ہو گئی تو بچنے کے امکانات مزید معدوم ہو گئے۔

انھوں نے کہا کہ ’ہمیں ان کی پہلے جو ہسٹری دی گئی وہ مصدقہ نہیں تھی، اور (ہسپتال کے اُن) پروفیشنلز کے ذریعے دی گئی جو کہ ان کے خاندان کے رکن نہیں تھے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اب ان کے خاندان کی طرف سے کچھ اور مؤقف سامنے آیا ہے۔

ڈاکٹر نقیب اللہ اچکزئی کا کہنا تھا کہ اکثر جب فالج کا حملہ ہوتا ہے تو مریض کو پھر سیکنڈری ہیڈ انجری ہوتی ہے لیکن عثمان کاکڑ کے کیس میں فالج، خون پتلا ہونے یا بلڈ پریشر کے شواہد نہیں تھے۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.