Masael Quetta
You might also like
1 Comment
  1. Muhamma Shehzad Bhatti says

    ذوالفقار علی بھٹو کی جانشین بےنظیر بھٹو

    کالم نگار:
    محمّد شہزاد بھٹی 
    Shehzadbhatti323@gmail.com

    ہر سال 27 دسمبر کو بےنظیر بھٹو کی برسی منائی جاتی ہے اس سلسلہ میں ملک کے طول و عرض میں پاکستان پیپلز پارٹی کے زیراہتمام جلسے اور تقریبات منعقد کی جاتیں ہیں۔ بےنظیر بھٹو 21 جون، 1953ء میں سندھ کے مشہور سیاسی بھٹو خاندان میں پیدا ہوئیں۔ بےنظیر برطانیہ سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد جون 1977ء میں اس ارادے سے وطن واپس آئیں کہ وہ ملک کے خارجہ امور میں خدمات سر انجام دیں گی لیکن ان کے پاکستان پہنچنے کے دو ہفتے بعد حالات کی خرابی کی بنا پر حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ جنرل ضیاءالحق نے ذوالفقار علی بھٹو کو جیل بھیجنے کے ساتھ ساتھ ملک میں مارشل لاء نافذ کر دیا اور ساتھ ہی بےنظیر بھٹو کو بھی گھر کے اندر نظر بند کر دیا گیا۔ اپریل 1979ء میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے ذوالفقار علی بھٹو کو قتل کے ایک متنازع کیس میں پھانسی کی سزا سنا دی۔ 1981ء میں مارشل لاء کے خاتمے اور جمہوریت کی بحالی کے لیے ایم آر ڈی کے نام سے اتحاد بنایا گیا۔ جس میں آمریت کے خلاف 14 اگست، 1983ء سے بھر پور جدوجہد شروع کی، تحریک کی قیادت کرنے والے غلام مصطفٰی نے دسمبر 1983ء میں تحریک کو ختم کرنے کا اعلان کیا لیکن عوام نے جدوجہد جاری رکھی۔ 1984ء میں بےنظیر کو جیل سے رہائی ملی، جس کے بعد انہوں نے دو سال تک برطانیہ میں جلاوطنی کی زندگی گزاری۔ اسی دوران پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے انہیں پارٹی کا سربراہ بنا دیا۔ ملک سے مارشل لا اٹھوائے جانے کے بعد جب اپریل 1986ء میں بےنظیر وطن واپس لوٹیں تو لاہور ائیرپورٹ پر ان کا فقید المثال استقبال کیا گیا۔ بےنظیر بھٹو 1987ء میں نواب شاہ کی اہم شخصیت حاکم علی زرداری کے بیٹے آصف علی زرداری سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنی سیاسی جِدوجُہد کا دامن نہیں چھوڑا۔ 17 اگست، 1988ء میں ضیاءالحق طیارے کے حادثے میں جاں بحق ہو گئے تو ملک کے اندر سیاسی تبدیلی کا دروازہ کھلا۔ سینیٹ کے چئیرمین غلام اسحاق کو قائم مقام صدر بنا دیا گیا۔ جس نے نوے دن کے اندر انتخابات کروانے کا اعلان کیا۔ 16 نومبر، 1988ء میں ملک میں عام انتخابات ہوئے، جس میں قومی اسمبلی میں سب سے زیادہ نشستیں پیپلز پارٹی نے حاصل کیں اور بےنظیر بھٹو نے دو دسمبر 1988ء میں 35 سال کی عمر میں ملک اور اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیرِاعظم کے طور پر حلف اٹھایا۔ اگست، 1990ء میں بیس ماہ کے بعد صدر اسحاق خان نے بےنظیر کی حکومت کو بے پناہ بدعنوانی اور کرپشن کی وجہ سے برطرف کر دیا۔ 2 اکتوبر، 1990ء کو ملک میں نئے انتخابات ہوئے جس میں مسلم لیگ نواز اور بےنظیر حکومت کی مخالف جماعتوں نے اسلامی جمہوری اتحاد کے نام سے الائنس بنایا۔ جس کے انتخابات میں اکثریت حاصل کی۔ ان انتخابات کے نتیجے میں مسلم لیگ نواز کے سربراہ نواز شریف وزیر اعظم بن گئے۔ جبکہ بےنظیر قائدِ حزبِ اختلاف بن گئیں۔ 1993ء میں اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے نواز شریف کی حکومت کو بھی بدعنوانی کے الزام میں برطرف کر دیا۔ جس کے بعد اکتوبر، 1993ء میں عام انتخابات ہوئے۔ جس میں پیپلز پارٹی اور اس کے حلیف جماعتیں معمولی اکثریت سے کامیاب ہوئیں اور بےنظیر ایک مرتبہ پھر وزیرِاعظم بن گئیں۔ پیپلز پارٹی کے اپنے ہی صدر فاروق احمد خان لغاری نے 1996ء میں بد امنی اور بد عنوانی، کرپشن اور ماورائے عدالت قتل کے اقدامات کے باعث بےنظیر کی حکومت کو برطرف کر دیا۔ بےنظیر بھٹو کو پاکستان اور عالم اسلام کی دو دفعہ خاتون وزیر اعظم بننے کا اعزاز حاصل ہے۔ بےنظیر بھٹو کو 27 دسمبر 2007 کو راولپنڈی کے تاریخی مقام لیاقت باغ میں ایک انتخابی جلسہ سے خطاب کے بعد اس وقت شہید کر دیا گیا جب وہ جلسہ ختم ہونے کے بعد واپس جا رہی تھیں۔ اس سے قبل خود ساختہ جلا وطنی کے بعد جب محترمہ بےنظیر بھٹو 18 اکتوبر2007 میں وطن واپس آئیں تو ان پر کراچی میں حملے کی کوشش کی گئی تھی۔ بے نظیر بھٹو ذوالفقار علی بھٹو کی صرف بیٹی نہیں بلکہ سیاسی جانشین بھی تھیں۔ انہوں نے اپنے والد سے جو کچھ سیکھا تھا، عملی سیاست میں اس پر مکمل عمل بھی کیا۔ کرپشن کے الزامات نے پاکستان میں ان کی سیاسی ساکھ کو کافی نقصان پہنچایا۔ پیپلز پارٹی رہنما ہی نہیں مخالف سیاسی جماعتوں کے لیڈر بھی بےنظیر بھٹو کی سیاسی بصیرت کے معترف تھے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.