Masael Quetta

قیاس آرائیاں

تحریر۔فرزانہ کوثر

0 254

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تحریر۔فرزانہ کوثر

- Advertisement -

طالبان کےبارے مختلف خیال آرائیاں اور تبصرے دیکھنے پڑھنےکو مل رہیے ہیں۔۔۔بعض انہیں جائز اور بعض ناجائز جان کر اپنی اپنی دانش مطابق گفتگو کر رہیے ہیں۔۔۔کسی کی زبان بند نہیں کی جاسکتی اور کسی کا منہ روکا نہیں جاسکتا۔۔۔ہر کوئی بولنے میں آزاد ہیے۔۔۔اسمیں بھی کوئی شک نہیں کہ افغانستان ہمارا مسلم ہمسایہ ملک ہیے اور اسکے حالات سے پاکستان کا متاثر ہونا فطری امر ہیے لیکن ان معاملات پر غوروخوض کرنا یقینا” عامة الناس کا کام۔نہیں کہ مبادا کوئی ایسی بات قلم کی زد میں آجائے جس سے قومی نقصان یا غلط فہمی پیدا ہونے کا خدشہ بھی پیدا ہوسکتا ہیے لہذا اس امر میں محتاط انداز اختیار کرنا ضروری ہیے۔۔۔۔جہاں تک میرا خیال۔ہیے ہمیں اپنی دانش اپنے ملک پاکستان کی بہتری کےلیے بروئے کار لانا افغان امور سلطنت کے معاملات پر بحث سے زیادہ ضروری ہیے۔۔۔۔۔مملکت خداداد جس پر میری جان بھی قربان ہیے کے اپنے مسائل اتنے ہیں کہ دیگر معاملات ویسے ہی ثانوی حیثیت اختیار کرجاتے ہیں۔۔۔۔تعلیم کے مسائل۔۔۔صحت کے مسائل۔۔۔روزگار۔۔۔کمزور معیشت۔۔۔بدامنی۔۔۔احتساب۔۔۔اپوزیشن۔۔۔کشمیر۔۔۔بھارت سے تعلقات۔۔۔۔خارجہ۔پالیسی۔۔۔۔مہنگائی۔۔۔پیداواری صلاحیتوں میں اضافہ بارے تجاویز۔۔۔۔کاروباری گروپس کاتعاون۔۔۔۔ایندھن الغرض لاتعداد مسائل ہیں۔۔۔۔جس شدت کے ساتھ صحافی۔برادری افغانستان تبدیلی پر اظہار خیال کررہی ہیے اگر اسی شدت کے ساتھ حکومت وقت کو عوامی مسائل۔کا ادراک۔کروائے تو شاید کسی اینڈ پر حکومت کو مہنگائی کم کرنے کا خیال آجائے۔۔۔۔۔اسی شدت سے کرپشن اقربا پروری اور بدعنوانی جانب یک زبان ہوکر آواز اٹھائیں تو شاید اس لعنت دے جان چھوٹ جائے۔۔۔۔میں۔ذاتی طور پر طالبان کی افغانستان میں تبدیلی کے اثرات کو اپنی پاک افواج کے تناظر میں دیکھنے کی زیادہ حامی ہوں کہ سردست حکومتی نااہلیوں کی حد یہ ہیے کہ سلامتی کونسل کے حالیہ اجلاس میں اطلاع دینا تو درکنار پاکستان کو مدعو نہیں کیا گیا حالانکہ افغان امریکہ جنگ میں سب سے زیادہ نقصان پاکستان نے اٹھایا لیکن ہماری حکومت کی خارجہ امور میں مہارت کا نتیجہ ملاحظہ فرمائیں کہ پاکستان کو مدعو نہی کیا گیا۔۔۔۔بہرحال ہم تو اپنی مسلح افواج کے ساتھ ہیں وہ خوش تو ہم بھی خوش۔۔۔۔
جب پاکستان کے معاملہ میں پاکستان کوہی مدعو نہیں کیا گیا تو یہاں سے پاکستان کے وزیرخارجہ کی قابلیت اور خارجہ امور پر دسترس اور انکی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کاپردہ چاک ہوتا نظر آتا ہیے۔۔۔۔۔صحافی برادری کا یہ بھی موجودہ حالات میں فرض بنتا ہیے کہ خارجہ محاذ پر حکومتی ناکامی کو اسی شد و مد سے اجاگر کرتی جس شدت سے افغان تبدیلی کو ڈسکس کیا ہیے۔۔۔۔۔پاکستان اپنے جغرافیائی محل وقوع اور حالیہ تناظر میں خطے کی بدلتی ہوئی صورت حال میں جسقدر آج اہمیت کا حامل ہیے۔۔۔شاید کبھی نہیں رہا۔۔۔۔اور اس موقع پر محض حکومت کا افواج پاکستان کےساتھ ایک پیج پر ہونا ہی کافی نہیں تھا بلکہ حکومتی مہارت اور اپوزیشن کے ساتھ انڈر سٹینڈنگ کے ساتھ اعتماد کی فضا میں اکٹھے ہونا بھی بہت ضروری تھا اور صحافی برادری کا فرض ہیے کہ حکومت کو باور کروائے کہ جناب آپ کا احتساب کا عمل اپنی جگہ لیکن ملکی معاملات میں تمام پارٹیوں کا اتفاق بہت ضروری ہوتا ہیے۔۔۔۔۔حکومت “عقل کل” ہونے کا ثبوت نہ دے بلکہ ملک کے اہم شعبہ صحافت میں بہت نامور لوگ موجود ہیں۔۔۔حکومت اپوزیشن۔۔مسلح افواج اور شعبہ صحافت کی سنجیدہ کہنہ مشق افراد کی شمولیت بہت ضروری ہیے۔۔۔۔۔بدلتے ہوئے حالات اور مستقبل کے نئے متوقع چیلینجز سے نبٹنا ہیےتو سب نے ملکر۔۔کیوں کہ ملک سب کا ہیے اور باہم مل بیٹھ کر سب نےہی آنے والے حالات کا مقابلہ کرنا ہیے۔۔۔سیاسی اختلافات کی حقیقت اپنی جگہ لیکن قومی مفادات تو سب کےسانجھے ہیں۔۔۔۔اور ملک بھی سب کا اپنا ہیے۔۔۔۔۔آخر میں اتنا کہنا چاہوں گی کہ اپوزیشن کی اہمیت اور قومی یکجہتی کا ادراک حکومت کو صحافی برادری نے کروانا ہیے۔۔۔۔۔لہذا جس شدت سےہم آج افغانستان پر رطب اللسان ہیں اس سے کہیں زیادہ قومی یکجہتی کا ادراک حکومت کو کروانا ہیے۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.