Masael Quetta

یوم آزادی 14اگست اور ہم

تحریر۔فرزانہ کوثر

0 713

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

یوم آزادی 14 اگست 1947 کے حوالے سے چودہ اگست محض پاکستان ہی نہیں قائد اعظم ؒ کے فرمان کے مطابق جنوبی ایشیا کے مسلمانوں خصوصا” اور دنیا بھر کی پسی ہوئی اقوام اور طبقات کے غصب شدہ حقوق کی واگذاری کی تحریک کا بیس کیمپ ہیے۔۔۔۔۔یوں دیکھا جائے تو 14 اگست محض پاکستانیوں ہی نہیں جنوبی ایشیا کے مسلمانوں اور دنیا بھر کے پسے ہوئے طبقات کے حقوق کی بحالی کی جدوجہد کے لیے بیس کیمپ ہیے اور ان تمام لوگوں کو ،14 اگست شایان شان طریقہ سے منانا چاہیے۔۔۔۔۔لیکن یہ ہماری داخلہ اور خارجہ پالیسی کی بدتر ناکامی ہیے کہ ہم برصغیر کی ہزاروں سالہ تاریخ کو کامیابی سے نیا موڑ دینے کیبعد اپنی تاریخی کامیابی کو پاکستان حاصل کرنےکیبعد پے در پی اندرونی اور بیرونی محاذوں شکستوں کی لمبی داستان لیے حسرت و یاس کی تصویر بنے۔۔۔۔۔قائد اعظم کے اس تشکیل دیے ہوئے بیس کیمپ کی بربادیوں کا نظارہ کررہیے ہیں۔۔۔۔قائد اعظم کی قیادت میں مسلمانان برصغیر نے تاج برطانیہ جسکی سلطنت میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا کیساتھ ایک خون آشام جنگ کیبعد تاریخ کی بعظیم فتح حاصل کی اور 14 اگست 1947 کو دنیا کے نقشہ پر ایک سب سے بڑی اسلامی سلطنت ابھری جسے “پاکستان” اور اب اسلامی جمہوریہ پاکستان کہا جاتا ہیے اور جسکے میں اور آپ شہری ہیں۔۔۔۔میں اور آپ۔۔۔۔۔جی میں اور آپ۔۔۔۔۔موجودہ حکومت پر تنقید و تنقیص مقصد نہیں۔۔۔۔گلہ مجھے قائد اعظم کے ان سپاہیوں سے ہیے۔۔۔۔۔جنہوں نے خون کا دریا پار کرکے پاکستان کی سرزمین کو اپنے جذباتی بوسوں سے سرخرو کردیا تھا۔۔۔وہ لوگ اور ہم جو انکی اولاد ہیں نے اپنی منتشر سوچ کے تحت اسے کسی بھی حوالے سے جنوب ایشائی مسلمانان یا پسے ہوئے طبقات کے حقوق کی بحالی کے بیس کیمپ تو تو کیا اپنے بنیادی انسانی حقوق کے حصول قابل بھی نہ رہنے دیا۔۔۔۔اقربا پروری۔۔کرپشن۔۔۔بدعنوانی۔۔لوٹ کھسوٹ۔۔بدنام زمانہ انگریزی استعماری ضابط دیوانی اور ضابطہ فوجداری اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے 1860 کے وضع کردہ قوانین کے تحت پولیس سے توقع رکھے ہوئے ہیں کہ یہ پولیس عوام کو انکے بنیادی حقوق کی حفاظت کا فریضہ سرانجام دے گی جو خود ہر قومی یا مذہبی تہوار سے پہلی رات بازاروں میں سوا دو لیٹر کی پیپسی کی بوتلیں تلاش کر رہی ہوتی ہیے استثناء تو ہر جگہ ہوتا ہی ہیے۔۔۔۔کیا ہمارے سول ادارے 14اگست کے تقاضوں کو ملحوظ رکھ کر فرائض منصبی ادا کررہیے ہیں یا ایسٹ انڈیا کمپنی کے کسی ادارے کی طرح قوم کو غلام سمجھ کر انہیں مزید ظلم کی چکی میں پیس رہیے ہیں۔۔۔۔ان اداروں کی میں بات نہیں کروں گی جنہیں ڈسکس کرنا آئین پاکستان میں بھی منع ہیے۔۔۔۔14 اگست یوم آزادی۔۔۔۔زندہ باد۔۔۔۔۔لیکن کیا میں آپ اور ہمارے ادارے 14 اگست آزادی کا پیغام عوام کو دے رہیے ہیں۔۔۔کیا کبھی کسی نے “آزادی” لفظ کی تشریح کی ہیے۔۔۔۔۔لائنوں میں لگے گھی آٹا چینی لیتےعوام آزادیبکے معانی و مفہوم سے آشنا ہوسکتے ہیں۔۔۔۔۔کیا کبھی کسی ڈپٹی کمشنر کمشنر یا کسی اور افسر نے آزادیبکے تقاضوں کو ملحوظ رکھنے کا لیکچر کہیں دیا ہیے۔۔۔۔۔کیا ہم حکما” یوم آزادی مناسکتے ہیں۔۔۔۔مہنگائی۔۔بدامنی۔۔دہشت گردی۔۔۔ناانصافیاں۔۔۔ تعلیم صحت روزگار کی سہولیات سے محرومی یہ سب آزادی کے تمغے اور انعام ہیں۔۔۔۔۔ہمیں من حیث القوم اس پر سوچنا ہوگا کیا ہم آزادی۔کے تقاضوں اور قیام پاکستان کے مقاصد کو بھول تو نہیں چکے
یاد رکھو دوستو۔۔۔جو قومیں اپنے قومی تہواربشایان طریقہ سے نہیں مناتیں وہ کبھی اپنے مقاصد کی تکمیل حاصل نہیں کرپاتیں۔۔۔ہمیں خود احساس کرنا ہوگا۔۔۔۔بحیثیت عوام الناس۔۔جی ہاں وزیراعظم اور صدر بھی عوام الناس میں سے ہی ہیں۔۔۔کہ ہمارا ہر قدم۔۔ہمارا ہر عمل ہماری ہر کوشش پاکستان۔کی بہتری کے لیے ہونا چاہیے۔۔۔۔احتساب کے پھوکے نعروں سے تعمیر پاکستان نہیں ہوسکتی۔۔۔۔محض سیاسی مخالفین کو بدنام کرنے کے لیے ریاستی اداروں کو آلہ کار کے طور پر استعمال کرنے کی روش پرانی ہوچکی۔۔۔اب ہمیں آگے بڑھنا ہوگا۔۔۔۔۔سانپ گزر کیا تو لکیر پیٹنا زندہ قوموں کا وطیرہ نہیں۔۔۔۔جو ہو گیا سو ہوگیا۔۔۔قوم بھی موجود ہیے۔۔ریاست بھی موجود ہیے اور اقتدار اعلی بھی موجود ہیے۔۔۔۔ہمیں اپنی صلاحیتوں کو بروئےکار لا کر نئے صبح و شام پیدا کرنا ہونگے۔۔۔۔اگر صلاحیتیں بروئے کار لائی جائیں تو آزادی کے مفہوم سے عوام کو آشنا کرنےکا فریضہ سرانجام دینا ہوگا۔۔۔۔۔اور مملکت خداداد پاکستان کو شہداء کی منشاء و مقاصد کو عوام میں اجاگر کرکے احتسابی داروں کی استعداد کار کو بھی آزادی جیسی نعمت سے ہمکنار کرنا ہوگا۔،وگرنہ ہم تاریخ۔۔۔شہداء اور اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کیے گئے وعدوں کی خلاف ورزیوں کے مرتکب ٹہریں گے اور تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی
وہ سحر جو کبھی فردا ہیے کبھی ہیے امروز۔۔نہیں معلوم ہوتی ہیے کہاں سے پیدا۔۔۔۔وہ سحر جس سے لرزتا ہیے شبستان وجود۔۔۔ہوتی ہیے بندہ مومن کی اذاں سے پیدا۔۔۔۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.