Masael Quetta

طالبان کابل میں داخل، اشرف غنی ملک چھوڑ گئے

1 810

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

طالبان کابل میں داخل، اشرف غنی ملک چھوڑ گئے

- Advertisement -

کابل (مسائل نیوز ڈیسک )طالبان نے مرکزی حکومت سے غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پریشان کابل حکومت ایک عبوری حکومت کے قیام کی کوشش کررہی ہے تاہم اس کے پاس محدود اختیار باقی رہ گیا ہے۔ طالبان نے کہا کہ وہ کابل پر بزور طاقت قبضہ نہیں کریں گے۔طالبان کا کہنا تھا کہ وہ اقتدار کی پر امن منتقلی کے منتظر ہیں اور اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ دارالحکومت کابل پر بزور طاقت قبضہ نہیں کریں گے۔ایک آن لائن بیان میں طالبان نے کہاکہ انہوں نے اپنے جنگجوو ¿ں کو کابل کے دروازے پار کر کے طاقت کے ذریعے شہر کا کنٹرول نہ حاصل کرنے کی ہدایت کی ہے۔انہوںنے کہاکہ کابل کے شہریوں کی زندگی، املاک، عزت پر سمجھوتہ کیے بغیر اقتدار کی محفوظ منتقلی کا عمل یقینی بنانے کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔طالبان ترجمان نے کہاکہ وہ کابل شہر کی پر امن منتقلی کا انتظار کررہے ہیں تاہم انہوں نے جنگجوو ¿ں اور حکومت کے درمیان ہونے والی بات چیت کی تفصیلات بتانے سے انکار کیا۔ایک طالبان عہدیدار نے بتایا کہ گروپ اقتدار کے حصول میں کوئی جانی نقصان نہیں چاہتا لیکن اس نے جنگ بندی کا اعلان بھی نہیں کیا ہے۔دوسری جانب طالبان مذاکرات کار اقتدار کی پر امن منتقلی کے لیے بات چیت کرنے افغان صدارتی محل روانہ ہوئے، حکام کا کہنا تھا کہ یہ واضح نہیں کہ اقتدار کی منتقلی کب ہوگی۔دوسری جانب ایک ویڈیو بیان میں افغان قائم مقام وزیر داخلہ نے کہا کہ کابل پر حملہ نہیں کیا جائے گا اور اقتدار کی منتقلی پر امن ماحول میں ہوگی۔یک دوسرے سیکیورٹی عہدیدار نے کہا کہ طالبان نے حکومتی عہدیداران اور سیکیورٹی فورسز کو جلال آباد سے نکلنے کی صورت میں محفوظ راستہ دینے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ طالبان قیادت نے اپنی فوجی کمانڈروں اور جنگجوؤں کو کابل میں داخل ہونے کا حکم جاری کر دیا ہے ۔ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے بیان میں کہاکہ طالبان فوجی حیثیت سے کابل میں داخل نہیں ہوناچاہتے تھے لیکن انہیں ایسی اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ وزراء، پولیس اور دیگر سکیورٹی اداروں نے اپنی ذمہ داریاں اور دفاتر چھوڑ دیئے تھے ۔ انہوںنے کہاکہ طالبان نہیں چاہتے تھے کہ اس ماحول میں شہر میں لوٹ مار اور لوگوں کو نقصان ہو ، اسی لئے اپنے کمانڈرز سے کہا ہے کہ وہ کابل میں داخل ہو جائیں تاکہ لوٹ مار کا راستہ روکیں اور امن وامان قائم ہو۔ طالبان ترجمان نے کابل کے شہریوں کو یقین دلایا کہ وہ شہر میں محفوظ ہیں اور کوئی ان کو نقصان نہیں پہنچا سکتا ۔ دریں اثناءمصالحتی کونسل کے سربراہ ڈاکٹر ع بد اللہ عبد اللہ نے تصدیق کی ہے کہ افغان صدر اشرف غنی افغانستان چھوڑ کر چلے گئے ۔اس سے پہلے رپورٹس میں بتایاگیا کہ صدر اشرف غنی اپنے نائب صدر اول امراللہ صالح کے ساتھ تاجکستان فرار ہوگئے ہیں ۔ ڈاکٹر عبد اللہ نے ایک ویڈیو بیان میں طالبان سے اپیل کی کہ وہ کابل میں امن وامان کے قیام کےلئے انہیں کچھ وقت دیں

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.