Masael Quetta

کابل ایئرپورٹ پر پھنسے پی آئی اے کے 2 طیاروں کو پرواز کی اجازت مل گئی

2 249

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

کابل ایئرپورٹ پر پھنسے پی آئی اے کے 2 طیاروں کو پرواز کی اجازت مل گئی

کابل(مسائل نیوز ڈیسک ) افغانستان کے دارالحکومت کابل میں طالبان کے داخلے کے بعد امریکا کے 4 سی ون تھرٹی طیاروں کی لینڈنگ کے لیے کابل ایئرپورٹ بند کردیا گیا اس دوران وہاں پھنسے پی آئی اے کے 2 طیاروں کو اڑان بھرنے کی اجازت دے دی گئی۔ تفصیلات کے مطابق امریکا کے 4 سی ون تھرٹی طیاروں کی لینڈنگ کے لیے کابل ایئرپورٹ کو اچانک بند کردیا گیا ، اس موقع پر 2 امریکی ہیلی کاپٹرز نے کابل ایئرپورٹ کا محاصرہ کیا ہوا تھا ، کابل ایئرپورٹ بند ہونے کے بعد پی آئی اے کے دونوں طیاروں ایئر بس 320 اور 777 کو اڑان کی اجازت نہیں دی گئی ، بعد ازاں کابل ایئرپورٹ اتھارٹی نے پی آئی اے کے طیاروں کو اڑان بھرنے کی اجازت دے دی۔ترجمان پی آئی اے نے بتایا کہ کچھ پاکستانی کابل ایئرپورٹ پہنچے اور انہوں نے کہا کہ ہمیں پاکستان جانا ہے ،

- Advertisement -

ان کے پاس ٹکٹس موجود نہیں تھے تاہم 8 مسافروں کو ایڈجسٹ کیا گیا ، بوئنگ 777 طیارہ اڑان بھرنے کے لیے تیار ہے جب کہ دوسرا طیارہ کچھ دیر بعد اسلام آباد کے لیے پرواز کرے گا۔ادھر افغانستان کے دارالحکومت کابل میں افغان طالبان کے داخلے کی اطلاعات کے بعد ترجمان دفتر خارجہ پاکستان نے کہا ہے کہ ابھی کابل میں سفارتخانہ بند کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ، پاکستان کا ہمیشہ مقف رہا ہے کہ افغانستان میں امن قائم ہو ، اپنے ایک بیان میں ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے کہا کہ افغانستان کی صورتحال کو مسلسل مانیٹر کر رہے ہیں ، کابل میں پاکستان کا سفارتخانہ فعال ہے ، کابل میں سفارتی عملے کی سیکیورٹی کے لیے تمام اقدامات کیے ہیں،

ابھی کابل میں سفارتخانہ بند کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کوشش ہے کہ سفارتخانہ بند نہ کرے ، افغانستان میں تمام پاکستانیوں کو ممکنہ مدد فراہم کی جارہی ہے، افغانستان میں صورتحال تیزی سے تبدیل ہورہی ہے ، پاکستان کا ہمیشہ مقف رہا ہے کہ افغانستان میں امن قائم ہو ، پاکستان ہمیشہ سے چاہتا ہے کہ سیکیورٹی صورتحال خراب نہ ہو۔ دوسری طرف افغانستان کی سورتحال سے متعلق افغان صدارتی محل میں ہوئے مذاکرات میں معاہدہ طے پا گیا ، افغان میڈیا کے مطابق افغان صدارتی محل میں طالبان اور حکومت کے درمیان مذاکرات جاری ہیں جہاں کابل پر حملہ نہ کرنے کا معاہدہ طے پا گیا ہے ، جس کے تحت طالبان عبوری حکومت کو اقتدار کی پرامن منتقلی کا فیصلہ کیا گیا ہے ، علی احمد جلالی نئی حکومت کے سرا راہ مقرر کئے جائیں گے جب کہ اس سارے معاملے میں عبداللہ عبداللہ ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں ، افغانستان کے قائم مقام وزیرداخلہ عبدالستار مرزا کوال نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ کابل پر حملہ نہیں کیا جائے گا اور حکومت کی منتقلی پرامن طریقے سے ہوگی ، کابل کے شہری یقین رکھیں کہ سکیورٹی فورسز شہر کی حفاظت یقینی بنائیں گے۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.