Masael Quetta

1 435

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

کوئی قوم اور ملک تعلیم کے بغیر ترقی نہیں کر سکتی ۔ ڈوژنل اکاﺅنٹس آفیسر محمد طاہر

- Advertisement -

انٹرویو ۔ نور احمد راہی
اللہ تعالی نے انسان کو اشرف المخلوقات میں سے پیدا کیا پھر اسے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت عطا فرمائی تاکہ وہ اپنے اچھے برے میں تمیز کر سکیں بہت کم انسان ہوتے ہیں جو نہ صرف انسانیت کی خدمت کا راستہ اختیار کرتے ہیں بلکہ دوسرے انسان کی بھلاءاور اچھائی کے لئے کوشش اور جدوجہد کو اپنا شعار بنا لیتے ہیں ایسا کرنے والا انسان پھر شخصیت بن جاتا ہے یعنی دوسروں سے مختلف اور منفرد بلاشبہ جو انسان اللہ تعالی کے پیدا کردہ انسانوں کی بھلائی اور فلاح و بہبود کے لئے جدوجہد کرتا ہے وہ نہ صرف انسانوں میں مقبول ہو جاتا ہے بلکہ اللہ تعالی کے نیک اور اچھے بندوں میں شامل ہوجاتا ہے خدمت انسانیت عظیم عبادت ہے۔خوش نصیب ہیں۔ وہ ہستیاں ہیں جو خدمت انسانیت میں مصروف ہیں انہیں خوش نصیبوں میں محکمہ سی اینڈ ڈبلیو میں اکاونٹس آفیسر جناب محمد طاہر صاحب بھی شامل ہیں
محمد طاہر ڈوژنل اکاﺅنٹس آفیسر نے1990ءمیں بطور سینئر آڈیٹر ملازمت اختیار کی۔ ڈوژنل اکاﺅنٹس آفسر کا امتحان اسلام آباد اور کوئٹہ سے پاس کیا ۔1997ءمیں ڈوژنل اکاﺅنٹس آفیسر تعینات ہوئے۔ تربت۔ سبی۔ ڈھاڈر اور تھل زیارت ۔ پشین ا ور کوئٹہ میں اپنی خدمات سرانجام دیئے اور موجودہ وقت میں محکمہ سی اینڈ ڈبلیو میں بطور اکاونٹس آفیسر اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ محمد طاہر اپنے کام میں بلا کی مہارت رکھتا ہے اور تمام کاغذی کارروائی اور اکاﺅنٹس کا نظام بروقت سر انجام دیتا ہے۔جس سے محکمہ کی کارکردگی میں مزید اضافہ ہو رہا ہے وہ وقت کی پابندی اور آج کا کام آج ہی کرنے کو ترجیح دیتے ہیں وہ اہم عہدے پر فائز ہونے کے باوجود ان میں غرور تکبر کا نام نہیں وہ ایک ایماندار اصول پسند آفسر کے طور پر اپنی شناخت رکھتے ہیں۔
محمد طاہر انتہائی خوش گفتار نرم مزاج خدا ترس انسانیت دوست مزاج کے مالک ہیں بظاہرسرکاری افسر ہیں لیکن انہوں نے خود کو دکھی انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کر رکھا ہے اور فارغ اوقات میں انسانیت کی خدمت میں مصروف ہو جاتے ہیں ان کا ماننا ہے کہ دکھی انسانیت کی خدمت ایک عظیم عبادت ہے اگر آپ نے ایک انسان کو خوش کیا اس کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیر دیا گویاآپ نے اللہ تعالی کی خوشنودی حاصل کی اس کے علاوہ محمد طاہر علم دوست مزاج کے مالک ہیں ان کے نزدیک دنیا کی کوئی قوم اور ملک تعلیم کے بغیر ترقی نہیں کر سکتی اور علم سے انسان کو روشنی ملتی ہے۔محمد طاہر ان طلبہ وطالبات کی بھرپور مدد کرتے ہیں جو کسی وجہ سے اپنی تعلیمی ضروریات پوری نہیں کر سکتے اسی طرح محمد طاہر بہترین اسپورٹس مین بھی ہیں زمانہ طالب علمی میںہاکی، کرکٹ اور میں بھرپور طریقے سے حصہ لیتے رہے اور اسکول و کالج کی طرف سے مختلف مقابلے میں بھی شامل ہوتے رہے محمد طاہر صاحب کا یہ عقیدہ ہے کہ کھیل کے میدان کو آباد کرکے اسپتالوں کو ویران کیا جاسکتا ہے محمد طاہر اپنی ذاتی جیب سے مختلف کلبز اور ٹیموں کی مدد بھی کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ محمد طاہر صاحب دین دوست بھی ہیں نماز کی پابندی کر تے ہیں اور اپنے حلقہ احباب کو ہمیشہ یہی نصیحت کرتے ہیں کہ دین اسلام عظیم دین ہے۔ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام کر ہی دنیا و آخرت کی فلاح پاسکتا ہے۔ محمد طاہر محکمہ سی اینڈ ڈبلیو میں روشن ستارہ بھی ہیں محمد طاہر اپنے آپ میں ایک مکمل اور کامیاب انسان ہیں۔ آئیے آپ کی بھی ان سے ملاقات کرواتے ہیں۔
محمد طاہر صاحب نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اللہ تعالی نے انسان کو اشرف المخلوقات میں پیدا کیا اس کا براہ راست مطلب یہ ہے کہ انسان کو اللہ تعالی کے نزدیک انتہائی قدر و منزلت حاصل ہے۔یہ اس ذات پاک کی حکمت ہے۔کہ کسی انسان کو کس حالت میں رکھا اور کسی کو کس حال میں۔ میرا اور آپ کا یہ فرض ہے کہ اللہ کی پیدا کردہ مخلوق سے پیار و محبت کریں۔اللہ پاک کو کسی کی عبادت کی ضرورت نہیں اگر اس پاک ذات کی خوشنودی حاصل کرنی ہے تو انسانوں کی خدمت کریں خصوصاً ان انسانوں کی جو پریشانیوں اور مسائل کا شکار ہیں۔ میرے نزدیک یہی سب سے بڑی عبادت ہے اوریہ عبادت ہر انسان کے حصے میں نہیں آ تی۔ایک سوال کے جواب میں محمد طاہر نے کہا کہ کھیل انسان کے لیے بہت ضروری ہیں کیھلوں کے ذریعے نہ صرف نوجوانوں کی ذہنی اور جسمانی تربیت ہوتی ہے بلکہ انہیں ایسا ماحول میسر آتا ہے جس سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے بلوچستان میں فٹبال کرکٹ جسکی اور باکسنگ اور دوسروں کے کیھلوں کے حوالے سے بھرپور ٹیلنٹ موجود ہے۔ جنہیں اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ بلوچستان کے نوجوانوں نے فٹ بال کرکٹ ھاکی اور باکسنگ میں بین الاقوامی سطح پر وطن عزیز پاکستان کی بھرپور نمائندگی کرتے ہوئے اپنے ملک اور صوبے کا نام روشن کیا ہے مگر لمحہ فکریہ ہے کہ یہاں کے نوجوانوں کو سرکاری سرپرستی حاصل نہیں اور نہ ہی ان کے پاس اس قدر وسائل ہیں۔ اگر بلوچستان کے نوجوانوں کو سرپرستی ملے اور ان کے پاس وسائل ہو تو ان کے مقابلے کا ٹیلنٹ نہیں ہوگا آپ دیکھیں کہ بدقسمتی سے یہاں کھیلوں کے میدان تک نہیں ہیں یہاں کے کھلاڑی بوسیدہ میدانوں میں کھیل کر بین الاقوامی سطح پر ملک کی نمائندگی کرتے ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ پارک اور کھیلوں کے میدان بنائے جائیں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ محکمہ سی اینڈ ڈبلیو بلوچستان کی جان ہے اوربلوچستان کے لیے محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔سی اینڈ ڈبلیو کے تمام اعلیٰ افسران اور اہلکار وطن کی خدمت کے جذبے سے سرشار ہیں۔بلوچستان خوشحالی کے لیے 80 فیصد سے زیادہ منصوبے محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے زیر نگرانی ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں محمد طاہر نے کہا کہ اس وقت نفسا نفسی کا عالم ہے ہر انسان خود پرست ہو گیا ہے دنیاوی خواہشات زیادہ ہوگئی ہیں رشتے فراموش کر دیے گئے ہم اپنی دین و دنیا کو خوشحال بنا سکتے ہیں جب ہم نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے راستوں پر چل کر دین اسلام کی اس کی اصل روح کے مطابق کی پیروی کریں۔ عوام کے نام پیغام میں کہا کہ ہمیں آپس میں ہر قسم کے تعصبات اور نفرتوں کا خاتمہ کرکے محبت اور رواداری کی راہ اختیار کرنی چاہیے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑنا چاہیے۔ انہوں نے قارئین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کی بہترین تربیت کریں اور انہیں علم کی روشنی سے ہم کنار کریں اور سچ کو اپنی زندگی کا مقصد بنائیں۔تب ہی کامیابی ہمارا مقدر ہوگی۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.