Masael Quetta

امریکا کے بلیک لسٹڈ محمد مخبر ایران کے اول نائب صدر نامزد

1 227

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تہران (مسائل نیوز ڈیسک )ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے انتہائی طاقت ور ملکی ادارے کے چیئرمین کو اپنا اول نائب صدر نامزدکردیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق ایران کی مقامی میڈیا میں پہلے سے ہی یہ افواہ گشت کر رہی تھی کہ ستاد کے سربراہ محمد مخبر کو اول نائب صدر مقرر کیا جا سکتا ہے۔ سن 1979 میں ایران کے روحانی پیشوا اور ایران کے بانی آیت اللہ روح اللہ خمینی کے احکامات پر عمل درآمد کے لیے ستاد قائم کیا گیا تھا۔ اسے اجرائی فرمان امام کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔محمد مخبر کو ایران کے موجودہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے سن 2007 میں ستاد کا سربراہ مقرر کیا تھا۔ اس سے قبل وہ جنوب مشرقی صوبے خوزستان میں متعدد سرکاری عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔ستاد کا قیام دراصل 1979میں اسلامی انقلاب کے بعد لوگوں کے ضبط شدہ املاک اور اثاثوں کا انتظام و انصرام دیکھنے کے مقصد سے عمل میں آیا تھا۔ تاہم یہ ادارہ دھیرے دھیرے ایک بہت بڑے گروپ میں تبدیل ہوگیا اور صحت سمیت مختلف صنعتوں میں اس کی بڑی حصہ داریاں ہیں۔برکت فاونڈیشن یا بنیاد برکت میں بھی اس کی حصہ داری ہے۔ اسی ادارے نے ایران کا پہلا دیسی کووڈ ویکسین تیار کیا ہے۔ ایرانی وزارت صحت نے جون میں اس ویکسین کو ایمرجنسی کے طور پر استعمال کے لیے منظوری دے دی تھی۔امریکی وزارت خزانہ نے جنوری میں ستاد اورمحمد مخبر پر پابندی عائد کی تھی ،امریکی انتظامیہ کے مطابق ستاد کا توانائی، ٹیلی کمیونیکیشن، مالیاتی خدمات سمیت ایرانی معیشت کے تقریبا تمام شعبوں میں حصہ داری ہے۔ابراہیم رئیسی نے عدلیہ کے ترجمان غلام حسین اسماعیلی کو اپنا چیف آف اسٹاف مقرر کیا ہے۔ سابق وکیل اسماعیلی پر یورپی یونین کی جانب سے پابندیاں عائد ہیں۔ایران کی جیلوں کی تنظیم کے سربراہ کے طور پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی وجہ سے ابراہیم رئیسی کو سن 2011 میں پہلی مرتبہ بلیک لسٹ کیا گیا تھا۔ انتہائی قدامت پسند رکن پارلیمان اور سن 2021 میں صدارتی عہدے کے امیدوار علی رضا زکانی کو تہران کا میئر مقرر کیا گیا۔ زکانی نے قدامت پسندوں کے غلبے والی سٹی کونسل میں کامیابی حاصل کی تاہم انہیں اس عہدے پر فائز ہونے سے قبل پارلیمان کی رکنیت سے استعفی دینا ہوگا۔زکانی، پیروز حناچی کے جانشین ہوں گے، جنہیں شہری ترقیات کا ماہر سمجھا جاتا ہے اور جن کا تعلق اصلاح پسند گروپ سے ہے.۔زکانی اس سے قبل سن 2004 سے سن 2016 کے درمیان بھی پارلیمان کے رکن رہ چکے ہیں اور گزشتہ برس کے الیکشن میں بھی کامیاب ہوئے تھے۔ نیوکلیئر میڈیسن کے ڈاکٹر 55 سالہ زکانی نے رئیسی کی حمایت میں صدارتی الیکشن کی دوڑ سے اپنا نام واپس لے لیا تھا۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.