Masael Quetta

ہم افغان قیادت کے بے بنیاد الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہیں: شاہ محمود قریشی

1 212

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

ہم افغان قیادت کے بے بنیاد الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہیں: شاہ محمود قریشی

اسلام آباد ( مسائل نیوز ڈیسک) پاکستان نے ایک بار پھر افغان قیادت کے بے بنیاد الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ افغانستان کے بدلتے حالات پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں شرکت کی درخواست کے باوجود ہمیں نہیں بلایا گیا، ہم افغانستان میں امن و استحکام کے سب سے بڑے اسٹیک ہولڈر ہیں ، افغانستان میں امن عمل کے لیے سہولت کاری کی ہے،سوائے سہولت کاری کے ہم ضمانت نہیں دے سکتے ہیں،افغانستان میں ہماراکوئی پسندیدہ فریق نہیں،افغانوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنا ہے، مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے، آگے بڑھنے کےلئے مذاکرات کے ساتھ واحد سیاسی حل ہے،افغانستان میں عدم استحکام سے پاکستان کو بھی نقصان ہوگا،داسوحملے کی تحقیقات سے چینی حکام کوآگاہ کردیاہے،سیرینا،داسو،جوہرٹاو ¿ن اورکوئٹہ حملے سازشوں کاشاخسانہ ہیں،سی پیک منصوبہ دنیا کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے،پوری قوم منصوبے پر متفق ہیں،سی پیک منصوبے پر کام جاری رہے گا ،سلامتی کونسل کی دوہزار پچیس چھبیس کی رکنیت کےلئے پاکستان کوششیں ابھی سے شروع کرےگا۔ پیر کو یہاں ترجمان دفترخارجہ زاہد حفیظ چوہدری کے ہمراہ پریس کانفرنس میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میں آپ سب کا شکر گزار ہوں کہ آپ وزارت خارجہ میں تشریف لائے۔

انہوںنے کہاکہ 6 اگست کو افغانستان کی صورتحال پر سیکورٹی کونسل کی خصوصی بریفنگ ہوئی،وزیر اعظم عمران خان نے افغانستان کی صورتحال کے حوالے سے اہم اجلاس کی صدارت کی،ہمارے خیال میں ہمیں سلامتی کونسل کے اس اجلاس میں بلایا جانا چاہیے تھا،ہم نے اس حوالے سے باقاعدہ درخواست دی تاہم اسے تسلیم نہیں کیا گیا۔ انہںنے کہاکہ اگست کے مہینے میں جب سیکورٹی کونسل کی صدارت ہندوستان کو ایک ماہ کے لیے سونپی گئی تو ہم نے واضح کیا کہ ہندوستان ذمہ دارانہ رویہ اپنائے مگر سیکورٹی کونسل کی مستقل ممبرشپ کے خواہاں بھارت نے ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کیا۔ انہوںنے کہاکہ ہمارا کردار افغانستان میں معاونت کا ہے ،ہم افغانستان میں امن کے گارنٹر نہیں ہیں۔ وزیر خارجہ نے کہاکہ پاکستان سمجھتاہے مسئلے کاحل افغان فریقوں پر مشتمل مذاکرات میں ہے،بھارت نے مثبت ردعمل نہیں دیا،ہماری درخواست کو قبول نہیں کیاگیا ،بدقسمتی سے دوسروں کی ناکامی کاملبہ پاکستان پر ڈالا جارہاہے ۔ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ افسوس ہے پاکستان کوقربانی کابکرابنانے کی کوشش کی جارہی ہے،ہم بارہا کہہ چکے ہیں کہ افغانستان میں ہماراکوئی پسندیدہ فریق نہیں۔ انہوںنے کہاکہ بھارت کوسلامتی کونسل کے صدرکی حیثیت سے ایسارویہ زیب نہیں دیتا،پاکستان سمجھتا ہے

- Advertisement -

الزام تراشی کے بجائے پائیدار امن کیلئے آگے بڑھا جائے ،افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ افغانوں نے کرنا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ ہم افغان قیادت کے بے بنیاد الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ افغانستان کے حالات روز بروز تبدیل ہورہے ہیں،پاکستان نے افغانستان میں امن واستحکام کیلئے بھرپورکردارادا کیا۔ انہوںنے کہاکہ افغانستان میں عدم استحکام سے پاکستان کو بھی نقصان ہوگا۔ انہوںنے کہاکہ ہم نے افغان وزیرخارجہ کواسلام آباد مدعو کرنے کیلئے دعوت نامہ بھجوایاتھا ،امن کی خاطر پاکستان نے ہزاروں جانیں قربان کیں۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان کوافغانستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش ہے ،ہم افغان تنازع کی جانی ومالی قیمت ادا کرچکے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ ثافغان معاملے پر عالمی برادری،امریکا کیساتھ ایک پیج پر ہیں،عالمی برادری کو افغانستان میں امن کےلئے کر دار ادا کر نا پڑے گا ۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان افغانستان میں کسی فوجی قبضے کے حق میں نہیں ہے ۔ انہوںنے کہاکہ امن کانفرنس اشرف غنی کے کہنے پر ملتوی کی گئی ،اسپوائلرز افغانستان میں بھی ہیں اور باہر بھی موجود ہیں۔ وزیر خارجہ نے کہاکہ داسوحملے کی تحقیقات سے چینی حکام کوآگاہ کردیاگیاہے۔ انہوںنے کہاکہ کوروناکے باوجودافغان شہریوں کو سہولت فراہم کی گئی، پاکستان نے افغان سرحد پر98فیصدفینسنگ کاعمل مکمل کرلیاہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ فینسنگ کامقصدغیرقانونی طورپرآنےوالے افرادکوروکناہے۔

انہوںنے کہاکہ افغان مذاکرات کامیاب ہوئے توسہراافغان قیادت کے سرہوگا،افغان مذاکرات ناکام ہوگئے توناکامی کی ذمہ داربھی افغان قیادت ہوگی۔ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ پاکستان کی جانب سے کوئی ابہام نہیں، پاکستان اپناکرداراداکرتارہےگا،ہم نے سمت طے کرلی ہے جس پرہم قائم رہیں گے۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان پر افغان مذاکرات کی ناکامیوں کا ملبہ ڈالنے کی کوششیں جاری ہیں،پاکستان کی ترجیحات واضح ہیں،سی پیک پرقومی اتفاق موجودہے۔ انہوںنے کہاکہ سی پیک پروجیکٹس کونشانہ بنانے کی گاہے بگاہے کوشش ہوتی رہی ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ سی پیک سے متعلق ہماراعزم مضبوط ہے،جس پرپوری قوم متفق ہے،سی پیک منصوبہ دنیاکی آنکھوں میں کھٹکتاہے،سیرینا،داسو،جوہرٹاو ¿ن اورکوئٹہ حملے سازشوں کاشاخسانہ ہیں،سی پیک منصوبےپرکام جاری رہےگا۔ انہوںنے کہاکہ سلامتی کونسل کی 2025کی صدارت کیلئے کوششیں شروع کردی ہیں۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان، عالمی برادری کو واضح کر چکا ہے کہ پاکستان تیس لاکھ سے زیادہ افغان مہاجرین کی گذشتہ کئی دہائیوں سے میزبانی کر رہا ہے ،ہم اپنے محدود وسائل کے اندر ان کی میزبانی کر رہے ہیں۔

انہوںنے کہاکہ ہم عالمی برادری سے کہہ رہے ہیں کہ وہ افغانستان کی تعمیر نو اور خطے میں امن و استحکام کیلئے تعاون کریں۔ انہوںنے کہاکہ جب افغان سفیر کی بیٹی کا معاملہ سامنے آیا تو مجھے دکھ ہوا کیونکہ ہماری اپنی اقدار ہیںمگر جب تفتیش کے بعد حقائق سامنے آئے تو وہ صورت حال کے برعکس تھے۔ انہوںنے کہاکہ ہم نے دیانتداری سے تحقیقات کیں اور جب افغانستان کے سفیر کو واپس بلایا گیا تو ہم کہا کہ افغان حکومت اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔ وزیر خارجہ نے کہاکہ بھارت نے افغان سفیر کی بیٹی کے معاملے کو ہوا دینے کی کوشش کی،ہم نے افغان وفد کے ساتھ سی سی ٹی وی فوٹج سمیت تمام حقائق شیئر کیں،ہمیں ادراک ہے افغان وفد واپس کا جاکر وہی راگ الاپیں گے جس کاذہن بنا کر آئے تھے۔ایک سوال پر وزیر خارجہ نے کہاکہ مسئلہ کشمیر پر ہمارا ایک قومی اتفاق رائے ہے،اس کا تازہ مظاہرہ پارلیمان مین مشترکہ قرار داد ہے جس میں اپوزیشن بھی شامل ہے۔ انہوںنے کہاکہ اپوزیشن کے بیانیے کو آزاد کشمیر میں پذیرائی نہیں ملی،انتخابات سے قبل وہاں حکومت انہیں جماعتوں کی تھی اور نتیجہ ماننے سے کترا بھی وہی رہی ہیں،اپوزیشن نے نتائج سے انکار کیا تاہم حلف اٹھا کر ان کو تسلیم بھی کر لیا

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.