Masael Quetta

کاش آج شورش کاشمیری زندہ ہوتا

تحریر: فزانہ کوثر

0 307

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

ہفت روزہ “چٹان” کی آئیندہ 52 ہفتوں کی کاپیاں بک ہوچکی ہوتیں اور زیر نظر شمارہ میں۔۔۔21ارب چینی کی قیمت میں اضافہ کرکے ڈکارنے والے جہانگیر ترین،12 ارب ڈکارنے والے خسروبختیار اور 7 ارب ڈکارنے والے مراد سعید میں گھرے لپٹے ہینڈسم وزیراعظم کی ایمانداری۔
پاکستان کے قومی اداروں کی غیرجانبداری اور اسپتالوں، اسکولوں، کالجز، یونیورسٹیز،ناجائز منافع خوروں، بلیک میلرز فیکڑی مل، اونرز ٹرانسپورٹرز، دکانداروں ،سبزی فروشوں، مہاجن ،سودخوروں کے ہاتھوں لٹتے طلباو طالبات اور بےبس والدین اور عوام الناس کی بےچارگی کی کہانیاں پڑھ رہیے ہوتے اور لاہور کی پولیس شورش کاشمیری کو ڈیفنس آف پاکستان رولز اور 16 ایم پی او کے کالے قوانین کے تحت میکلوڈ روڈ کی چٹان بلڈنگ کے ارد گرد مستعد گرفتار کرنے خاطر کھڑی ہوتی،لیکن اب نہ تو کوئی صحافی ایسے رہیے اور نہ ہی عوام میں ہفت روزہ خریدنے کی سکت ہیے۔لہذا راوی چاروں طرف چین لکھتا ہیے۔عوام تو بولتی نہیں اطمینان قلب و نظر کے ساتھ محو تماشائے اہل کرم ہیے۔ رہ گئے سیاست دان تو سب ہی مقتدرین کو اپنی وفاداریوں کایقین دلانے کی
خاطر ظاہراً اطمینان کا دکھاوا کرتے اپنی باری کے منتظر ہیں کہ پہلے گدھ کا پیٹ بھرے تو ہماری باری آئے۔ اس باری کا “بار” بھی کچھ زیادہ نہیں بس زندہ لاشوں کی رگوں میں دوڑتے خون کی بہتی ندیوں کو خشک کرناہی ہیے ۔اسقدر نفسانفسی، آپا دھاپی ،لوٹمار اور خون نچوڑنے کی وارداتوں کی خبریں سنا ہیے کسی زمانے میں بہت کم تھیں لیکن اب تو یوں لگتا ہیے کہ “صحافت” نام ہی اس آپادھاپی کی رپورٹنگ کا رہ گیا ہیے ۔سدباب کی صحافت خجالت کے سوا کچھ نہیں۔بچیاں بچے گھروں سے سودا سلف لینے نکلتے ہیں اور درندگی زدہ لاشیں کوڑے کے ڈھیروں سے ملتی ہیں۔کہیں ہم جنس پرستی کی تبلیغ خاطر باقاعدہ کلب پوش علاقوں میں قائم ہوچکے ہیں۔بلکہ ابھی کل ہی اسلام آباد شکرپڑیاں میں تو ہم جنس پرستی کےفروغ خاطر گانا بھی ریکارڈ ہوا جو عوام کے شوروغوغا پر کاروائی کی زد میں ہیے لوکل ٹرانسپورٹ کی بس میں تعینات ایک گارڈ کی بس میں بیٹھی خواتین جانب منہ کر کے ننگے ہوکر مشت زنی کرنے کی ویڈیو وائرل ہوئی تو یوٹیوب نے ویڈیو ہی بلاک کردی مبادا گارڈ شناخت نہ ہوجائے عجیب صورت حال ہوچکی ہیے پولیس بھی اپنی ڈیوٹی کے گھنٹے پورے کرنے کے موڈ میں رہتی ہیے اور علی الا علان کہتی سنائی دیتی ہیے کہ حکومت اپنے کام کرواتی ہیے تو تنخواہ کے علاوہ پیسے دیتی ہیے سو عوام نے بھی کام کروانا ہیے تو پیسے دے۔ملک قرضوں کی دلدل میں مکمل پھنس چکا ہیے اور بےروزگاری کا عفریت دن بدن تونگر ہوکر ڈکیتیوں، چوریوں ،راہ زنیوں،اور بےگناہوں کے قتلوں کی صورت میں معاشرہ کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہیے

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.