Masael Quetta

عوام اور مہنگائی

تحریر فزانہ کوثر

0 654

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

آئے روز مہنگائی کاعفریت اپنی کارستانیوں سے عوام الناس کی خوشیوں اور خوشحالیوں کو اپنی آگ میں لپیٹ کربھسم کردینے کی کاروائی مکمل کرکے سوتا ہیے اور اگلی صبح اپنی اسی مصروفیت میں دوبارہ جت جاتا ہیے۔۔۔۔۔عوام ہیں کہ انتہائی اطمینان سے چوربازاری ذخیرہ اندوذی اور ناجائز منافع خوری کے عفریت کے منہ میں اپنی دن بھر کی کمائی۔جھونک کر خواہشوں امیدوں اور کامرانیوں کے روشن دیئے بجھا کر بےنیم مرام واپس گھر کو لوٹ آتے ہیں۔۔۔یہ بےنیل و مرامگی کبھی تو خاوند کے ہاتھوں بچوں سمیت بیوی۔کی تڑپتی لاشوں پرنتج ہوتی ہیے اور کبھی ماں سارے معصوم بچوں سمیت نہر میں چھلانگ لگاکر اپنے پیار کرنے والے خاوند کے کندھوں سے اپنا اور معصوم بچوں کے اخراجات کا بوجھ اتار کر انہیں ہلکا کردیتی ہیے۔۔۔۔۔پولیس آتی ہیے۔۔لاشیں لواحقین کے حوالےکرتی ہیے اور واپس اپنے معمولات میں مصروف ہوجاتی ہیے۔۔۔۔نہر میں کودنے والی اس خاتون یا بچوں بیوی کوذبح کرتے خاوند کا تعلق ضروری نہیں کہ مزدور طبقہ سے ہی ہو۔۔۔میں نے متمول خاندانوں کےافراد کو بھی اس جہنم میں کودتے دیکھا ہیے۔۔۔۔لوگ اس متاثرہ خاندان کے لواحقین کےپاس جاتے ہیں۔۔۔ہاتھ اٹھاتے افسوس کرتے ہیں اور زندگی پھر اپنی جولانیوں کی حامل ہوجاتی ہیے۔۔۔۔۔کتنا قبیح اور ضمیر کو جھنجھوڑنے والا واقع ہوتا ہیے لیکن۔۔۔۔بے حس معاشروں میں ایسے واقعات کی اہمیت نہیں ہوا کرتی۔۔۔دکھ تو وہاں کوئی کرے جہاں کوِئی انسانی۔قدر زندہ ہو۔۔۔ہر قسم کے چیف سے لیکر آپ اور مجھ تک ہم ایک ہی۔”اخلاقی قدر”کے حامل ہو چکے ہیں “بےحسی” ۔۔۔۔جی ہاں بےحسی۔۔۔۔اتنے بے حس کہ ہمیں معاشرت اور انسانیت کے لازوال تقاضوں سے بھی گھن آنے لگی ہیے۔۔۔۔ہمیں کوئی بتائے یا باور تو کراوئے۔۔۔ہم اپنی۔بساط بھر سنجھانے والے کی۔ایسی تیسی کردیتے ہیں۔۔۔۔وزیراعظم اپنے مخالف پر۔۔۔چیفس اپنے مخالفوں پر۔۔۔وزراء اپنے مخالفین پر اور علماء اپنے مخالفین پر اور ہم خود اپنے ہم پلہ عوام الناس پر اور صحافی اپ۔ی برادری پر چڑھ دوڑتے ہیں کہ۔تم کون ہوتے ہو ہمیں سمجھانے یا ہم پر تنقید کرنے والے۔۔۔۔ہم اپنا اچھا بھلا خوب پہنچانتے ہیں۔۔۔۔قارئین۔۔۔۔۔جب اخلاقی قدریں ختم ہوجاتی ہیں تب تو معاشرے اسی نہج پر آپہنچتے ہیں جہاں اب ہم ہیں۔۔۔۔۔بےکس و بےنوا کی اب ہمارے ہاں کسی جگہ پر کوئی شنوائی نہیں۔۔۔ضمیروں کے کواڑ اسقدر دبیز ہوچکے ہیں کہ ان پر دستک دی بھی جائے تو اپنا ہاتھ زخمی ہوتا ہیے دستک نہیں دی جاسکتی۔۔۔۔دیکھنا تو یہ ہیے کہ اب ہم ان حالات میں خود کو کب تک مقید رکھتے ہیں۔
۔سمع خراشی کی معذرت۔۔۔اللہ حافظ

- Advertisement -

فرزانہ کوثر ۔۔۔ڈائریکٹر ورلڈ ہیومن ڈیویلپمنٹ سوسائٹی آف پاکستان

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.